سینکڑوں خستہ حال عمارتیں غریبوں کی جانیں داؤ پر، متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی

لاہور(ھم دوست نیوز)خطرناک عمارتوں کے مالکان کی بے حسی سینکڑوں غریب خاندان 1300سے زائد خطرناک قراردی جانے والی عمارتوں میں اہل خانہ کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور،متعلقہ اداروں کی مجرمانہ خاموشی سے حالیہ مون سون کی جاری بارشیں کسی بھی مجبور خاندان کے لیے موت کی بارش بن سکتی ہے موت کی چھتوں اوردیواروں میں مقیم لاچار خاندان مکان مالکان اور حکومتی توجہ او رامداد کے منتظر ہے۔

زرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق اس وقت صوبائی درالحکومت میں 1319کے قریب مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں 1200کے قریب اندرون شہر اور 119ایم سی ایل کے کنٹرولڈ ایریا میں ہیں جس میں سے 500سے زائد ایسی عمارتیں ہے جو بالکل خستہ حال ہوچکی ہیں اور کسی وقت بھی گر سکتی ہے مگر اس کے باوجود سینکڑوں خاندان ان موت کی دیواروں کے اندر ر اپنی غربت اور بے بسی کے باعث ر ہائش پزیرہے جبکہ ان عمارتوں کے مالکان اپنے مالی مفاد کی خاطر بے آسراافراد کی زندگیوں سے کھیلتے ہوئے بلڈنگ مرمت کروانے کی بجائے صرف کرایہ وصول کرنے تک محدود ہے حالانکہ کہ گزشتہ برس 2020ءمیں ان خستہ حال عمارتوں کی دیواریں ، چھتیں یا مکمل عمارت گرنے کے 26واقعات رونما ہوئے جس میں بھاری جانی ومالی نقصان کا سامنا کرناپڑاتھا.

زرائع کے مطابق حادثات رونما ہونے کی ایک بنیادی وجہ پرانے ڈھانچے پر نئی عمارت کی تعمیر کو بھی قرار دیا گیا تاہم ان خستہ حال عمارتوں کے مالکان خود تو ان علاقوں کو چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوچکے ہیں لیکن ان عمارتوں کو کرائے پر دے رکھا ہے جبکہ والڈ سٹی اتھارٹی اور ایم سی ایل کے افسران عملی طور پر ان میں مقیم افراد کی زندگیاں محفوظ کرنے کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے اگر خطرناک عمارتوں کے حوالے سے بروقت اقدامات نہ کیے گئے توحالیہ مون سون کی بارشیں کسی بھی مجبور خاندان کے لیے موت کا پیغام بن سکتیں ہیں۔

Leave a Reply