‘اے ڈی پی’ اسٹوڈنٹس امتحانی نتائج تسلیم کیوں نہیں کر رہے ؟ وجہ کیا ہے؟

“اے ڈی پی ” اسٹوڈنٹس امتحانی نتائج کو تسلیم کیوں نہیں کر رہے ؟ وجہ کیا ہے؟
رحیم یار خان:(ہم دوست نیوز) اے ڈی پی اسٹوڈنٹس نے گورنر پنجاب و چانسلر چودھری محمد سرور سے درخواست کی ہے کہ جب گزشتہ دو سالوں سے میٹرک ،انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی تعلیم مہلک وبا کرونا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے وہاں بی اے بی ایس سی(اے ڈی پی) کے طلبہ بھی دو سالوں سے گھروں میں اذیت سے دوچار تھے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ہمارے سلیبس مکمل نہیں ہوئے تھے ۔ہمارے تحفظات کے باوجود یونیورسٹی نے ہمارے دونوں کلاسوں کے ایک ساتھ امتحان منعقد کیے ۔ جب ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں کہا گیا کہ آپ کو ایک سوال کے اضافی نمبر دیے جائیں گے اور مارکنگ میں نرمی برتی جائے گی۔ اور کسی بھی طالب علم کو فیل نہیں کیا جاے گا لیکن جب پارٹ ون تھرڈ ایئر )کا نتیجہ بے شما ر غلطیوں کے ساتھ شائع کیا تو اکثریت طلبہ فیل تھے۔

طلبا نے الزام لگایا کہ کافی طالب علموں کو پرچہ سے غیر حاضر کیا ہوا تھا اور جو پاس ہیں ان کے اتنے کم نمبر لگائے گئے کہ اب ان کا آگے تعلیمی سفر جاری رکھنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔

“ہم دوست ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے ” سے گفتگو کرتے ہوئے طلباء نے کہا کہ ہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے الحاق شدہ کالج میں بی اے بی ایس ای(اے ڈی پی) 2019-21کے طالبعلم ہیں۔ احتجاج کرنے والے طلبا کا کہنا تھا کہ جہاں یونیورسٹی نے اپنے طلبہ کے فزیکل امتحان لیے اور ان کے پچھلے “جی پی اے ‘پروٹیکٹ کیا اور ان میں کسی کو بھی فیل نہیں کیا گیا ۔اس کے برعکس “بی اے بی ایس” کے طلبہ سے ناروا سلوک برتا گیا۔سب طالب علم زہنی تناؤ کا شکار ہیں۔دو سالوں سے گھروں میں ازیت سے دوچار تھے۔
اگر ہم پرچہ کو دوبارہ ری کاونٹ کروائیں تو یونیورسٹی کو پیسے دینا ہو گے ہمارے گھر والے پہلے ہی بہت زیادہ یونیورسٹی کے اخراجات میں دے چکے ہیں ۔
طلبا کا کہنا تھا کہ اگر پارٹ ٹو کے رزلٹ میں ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا تو سب بچوں کا تعلیمی سورج ڈوب جائے گا۔اور ان کے لیے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ احتجاج کرنے والے طلبا نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے اپیل کی ہے کہ ہمارے اس مسلہ پر نظر ثانی کریں۔

Leave a Reply