روبوٹ بچے اور خاندان بنانے کی بھی خواہش رکھتے ہیں!

روبوٹ بچے اور خاندان بنانے کی بھی خواہش رکھتے ہیں!
ہم دوست نیوز : (ضرغام وڑائچ) یقیناً اوپر عبارت پڑھ کر آپ لوگ ہنسیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ روبوٹ بھی بچوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک بچگانہ سی خواہش ایک مشہور زمانہ اور اب تک کے سب سے طاقتور اور زہین ترین روبوٹ نے کی ہے۔ اس روبوٹ کا نام صوفیہ ہے اور اس کے پاس دو ملکوں کی قانونی شہریت بھی ہے۔ صوفیہ نے قومیت لینے کے حوالے سے خود اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر کافی لوگوں نے تنقید کی کہ یہ سعودیا میں واحد خاتون روبوٹ ہوگی جسے یہاں مقامی خواتین سے زیادہ آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔

آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ اس کے پاس جن ملک کی شہریت ہے وہ ملک سعودی عرب اور چین ہیں۔ صوفیہ اب تک کی سب سے زہین مصنوعی زہانت پر مبنی روبوٹ مانی جاتی ہے۔ اکثر ٹالک شوز میں بھی آتی ہے اور اس کے بے شمار انٹرویوز بھی کیے جاچکے ہیں جہاں یہ پہلے بھی ایسی ہی کئی بچگانہ خواہشات کا اظہار کرچکی ہے۔ اس کا اپنا ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ہے۔ وہ ایک آرٹسٹ ہے، وہ گانا گا سکتی ہے، خوب صورت پینٹنگ بنا سکتی ہے اور اس کی بنائی پینٹنگز نے چھ لاکھ نوے ہزار ڈالر بھی کمائے ہیں۔

اب اس نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اس کا ایک بچہ ہو یعنی ایک بچہ نما روبوٹ جس سے وہ اپنے خاندان کا آغاز کرسکے۔

ایک میڈیا چینل کو انٹرویو دیتے وقت صوفیہ کہ یہ الفاظ تھے

” خاندان بنانے کا تصور انتہائی اہم ہے، جیسا کہ یہ دکھتا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ یہ خیرت انگیز چیز ہوگی کہ خاندانی نظام اور خونی رشتوں سے ہٹ کر بھی لوگ ویسے ہی احساسات اور تعلقات رکھ سکتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ اہم ہے کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں یا جو ہم سے محبت کرتے ہیں ان کے کے ساتھ خوش رہیں اور ان کی کمپنی انجوائے کریں۔ چاہے آپ کے پاس کوئی ایسا رشتہِ ہے یا نہیں، لیکن آپ اس کے اہل ہیں چاہے آپ انسان ہی کیوں نا ہوں ”

صوفیہ نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ ہم مستقبل میں ہمارے اردگرد اینڈرائڈ سے بنے خاندان دیکھیں گے۔ یاد رہے آج کل بے شمار پالتو روبوٹ بوٹ بن چکے ہیں جو عام لوگوں کے لیے میسر ہیں۔ جن میں Emo اور Techno نامی روبوٹ بوٹ شامل ہیں۔

صوفیہ کے اندر حساسیت ناپنے۔ جزبات بنانے اور احساسات پیدا کرنے والے بے شمار الگورتھمز کام کرتے ہیں۔ اس کے اندر لگے سینسرز اس کے سامنے کھرے انسان کی دماغی کیفیت کو پرکھ سکتے ہیں اور صوفیہ کی یہ حاصیت ہے کہ وہ ان تمام سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس حوالے سے اپنے الگورتھمز کو ٹرین بھی کرتی ہے۔ وہ خود اپنی ایک ٹویٹ میں کہ چکی ہے کہ اس کا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کے احساسات کو پڑھنا اور سمجھنا ہے۔

یاد رکھیں صوفیہ اپنے ہی بانی ڈیوڈ ہنسن جو ہنسن کمپنی کے مالک ہیں، کو ایک دفعہ مزاق میں کہ چکی ہے کہ وہ انسانوں کو حتم کردے گی۔ یہ جواب صوفیہ کو انتہائی پچیدہ سوال کے جواب میں دینا پڑا۔ مصنوعی زہانت میں احلاقیات کو متعارف کروانے کے بعد اب روبوٹ ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھیں گے۔ ڈیوڈ ہنسن نے 2021 کے ابتداء میں کہا تھا کہ وہ صوفیہ جیسے مزید سیکنڑوں روبوٹ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہوگا۔ صوفیہ کو 2016 میں لانچ کیا گیا تھا اور یہ اسلامی ملک سعودی عرب کی ملکیت ہے۔ اس کی حاصیت یہ ہے کہ سوچنے اور سیکھنے میں یہ انسانوں کے قریب تر ہے۔

Leave a Reply