پودا پاکستان کے زیراہتمام تین روزہ سالانہ کانفرنس اختتام پذیر

اسلام آباد (ہم دوست): پودا- پاکستان کی طرف سے تین روزہ سالانہ کانفرنس لوک ورثہ اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ کانفرنس کا اختتام ہر سال کی طرح ایک متفقہ قرار داد پر ہوئی ہے جس میں پاکستان کے دور دراز دیہات سے آئی ہوئی خواتین نے اپنے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے چند گذارشات پیش کی ہیں کہ دیہی خواتین کو نا صرف کوویڈ 19 بلکہ دیگر صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ خواتین اور بچیوں کے لئے تعلیم اور اور صحت کے مراکز کی عدم دستیابی سے ان کو دشواری کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی کمی اور کئی دیگر اہم سامان کے نا ہونے کے باعث دیہی خواتین کو سفر کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑھتی ہیں جو وقت اور روپے کا زیاں ہیں۔
خواتین شرکاء نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ محنت کی زیادتی کے باوجود خاتون کسان آج بھی کم اجرت پاتی ہے اور اس کمائی میں بھی اسکے کئی حصے دار نکل آتے ہیں۔ عورتوں کی منڈیوں تک رسائی بھی مشکل ہے۔ زراعت سے منسلک خاتون کو آج بھی کاشتکار یا کسان کا درجہ نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے کسان کو ملنے والی مراعات اور تکنیکی معاونت میں انکا کوئی کھاتا نہیں ہوتا۔ دفاتر، سیڈ بینک اور بینکوں میں خواتین کو مردوں سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔
خواتین کی قومی دھارے میں شرکت کے بغیر ترقی کا عمل نامکمل ہے۔ نادرا کے موبائل یونٹس کا ہر علاقے میں جا کر خواتین کے شناختی کارڈ بنانے کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے نیز خواتین کو سیاسی عمل میں ووٹر سے لے کر پارلیمنٹ اور سینٹ کے ایوانوں تک نمایاں حیثیت دینے کی سخت ضرورت ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن (نادرا) کے چیئرپرسن طارق ملک نے نشاندہی کی کہ کسی بھی نظام کو نفاذ کرنے والوں کا ایک موروثی غیر سرکاری تعصب ہے جو شادی شدہ خواتین کو شادی کے بعد اپنے شوہر کے نام اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔ “قانون میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے جس کے تحت خواتین کو ایک مخصوص نام اپنانے کی ضرورت ہو۔ یہ عورتوں پر منحصر ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والد کا نام اپنائیں یا نام تبدیل کر کہ اپنےشوہر کا نام استعمال کریں۔ ہم اس الگورتھمک صنفی تعصب کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چیئرمین نے قمر بانو کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے سندھ کی جیکب آباد میں 5000 ہندو خواتین کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی حمایت کی۔ انہوں نے سامعین کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ہندوؤں ، یہودیوں ، عیسائیوں ، سکھوں اور دلتوں پر مشتمل اقلیتوں کو رجسٹر کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
“شناختی کارڈ محض پلاسٹک کارڈ نہیں ہے ، یہ نہ صرف خواتین کے انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے ، بلکہ انہیں حکومتوں کی پالیسیوں اور اقدامات سے فائدہ اٹھانے کا اختیار بھی دیتا ہے۔ میری تقریری کے بعد ، 100 دن کے اندر ہم نے خواتین اور مردوں کے درمیان موجودہ رجسٹریشن فرق کو 14 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا ہے۔ ہم نے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے رجسٹریشن بڑھانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ، ایک جامع رجسٹریشن یونٹ قائم کیا گیا ہے جو خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے سختی سے کام کر رہا ہے۔ یہ یونٹ خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے تمام پالیسیوں کا جائزہ لے رہا ہے چاہے اس کا تعلق ایڈوکسی سے ہو یا آؤٹ ریچ سے ہو۔ اس کے علاوہ ، چند مہینوں میں ، تقریباً 40 ملین گھرانوں نے اپنے خاندان کے افراد کے کوائف کو ہماری سرشار سروس 8009 کے ذریعے درست کیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے آپ کے خاندان نمبر سے منسلک کسی بھی جعلی اندراج کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
پودا- پاکستان نے اس کانفرنس کو بلوچستان کے نصیر آباد سے تعلق رکھنے والی ایک دیہی خاتون رہنما نظیراں جمالی کے لیے وقف کیا ہے جو حال ہی میں انتقال کر گئی ہیں۔ اختتامی تقریب کے دوران ان کی بیٹی آمنہ جمالی کو اعزاز سے نوازا گیا۔ آمنہ جمالی نے چیئرپرسن نادرا پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کی خواتین کو سہولیات اور خدمات فراہم کریں جو اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔۔

پاکستان میں کینیڈا ہائی کمیشن کے امدادی سربراہ لیوک مائرز نے خواتین کی نمائندگی اور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اس نکتے پر مہمانوں کی توجہ دلاتے ہوئے زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو عملی طور پر صنفی حساس پالیسیوں سے حل کرنے کے لیے حقیقی عزم کے ساتھ تبدیل کریں۔ انہوں نے مزید کہا ، “آنے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات خواتین کو موقع فراہم کرنے چاہیئے ہیں کہ وہ امیدواروں اور ووٹروں کے طور پر فعال کردار ادا کریں تاکہ ٹھوس اقدامات کے ساتھ اپنی برادریوں کی تشکیل میں مضبوط آواز بن سکیں اور اس آواز میں ربط اور ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔” لیوک مائرس نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ، جو خاص طور پر دیہی خواتین کو متاثر کر رہا ہے ، خواتین کی معاشی پختگی کو مضبوط کرنا بہترہے۔
نمائندہ اقوام متحدہ ترقی ، پروگرام (یو این ڈی پی) ، مسٹر ڈیرن نے منتظمین کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے دیہی خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مسٹر ڈیرن نے کہا کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا سب کا اولین فرض ہے۔ فوزیہ طارق ، سینئر جنڈر ایڈوائزر ، انٹرنیشنل فاؤنڈیشن آف الیکٹورل سسٹم نے اجلاس کے میزبانی کی۔
عبدالحفیظ ، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی نظام کے قوانین میں ترامیم کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں منعقد ہونے والے کنٹونمنٹ انتخابات میں 1559 امیدواروں میں سے صرف 19 خواتین تھیں۔ صرف 2 خواتین نے الیکشن جیتا۔ تاہم بعد میں ایک کو نااہل قرار دیا گیا۔

Leave a Reply