سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس ، سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو طلب کر لیا

سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس ، سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو طلب کر لیا
ہم دوست نیوز:( اہم ترین ) سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو طلب کر لیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کو آج ہی طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز بدھ جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا وزیراعظم نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھا ہے یا نہیں ؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے۔ایسے نہیں چلے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں۔ اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ میں دفتر چھوڑ دونگا کسی کا دفاع نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:سول ایوی ایشن اراضی کیس، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کا فیصلہ

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا۔ سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔ یہ ممکن نہیں کہ دہشتگردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو سکولوں میں مرنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کیخلاف کارروائی کر دی گئی۔ اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔ اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کرچلتے بنے۔ کیس میں رہ جانے والے معاملات پر آپ نے آگاہ کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ اے پی ایس کے ہیرو، ایک خصوصی استاد کی کہانی : ثاقب لقمان قریشی

وکیل والدین امان اللہ کنرانی نے کہا کہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ مزاکرات کر رہی ہے۔ قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں۔ ریاست سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ہے یہاں سیاسی باتیں نہ کریں۔

چیف جسٹس نےکہا ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، اربوں روپے انٹیلی جنس پر خرچ ہوتے۔ دعوی بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں۔ انٹیلیجنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں, چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داران کیخلاف مقدمہ درج ہوا؟

یہ بھی پڑھیں:سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کی 30 ہزار خالی آسامیاں، سپریم کورٹ کا اظہار تشویش

اٹارنی جنرل نے بتایا سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں ہے۔

سانحہ اے پی ایس متاثرہ والدین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ‏وزیراعظم نے ہم سے وعدہ کیا تھا لیکن کچھ ایکشن نہیں لیا آج چیف جسٹس نے وزیراعظم کو بلا کر درست کیا۔

Leave a Reply