پابندی کا مطالبہ

بھارت: وکلاء نے اذان پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

(ہم دوست نیوز):بھارت: وکلاء نے اذان پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے اور زیادہ آبادی والے شہر اندور میں ہندو وکیلوں نے وزیر داخلہ سے اذان پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اندور میں وکلاء نے صوتی آلودگی کو بہانہ بناتے ہوئے لاؤڈ اسپیکروں سے اذانوں کی آوازوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔اس مقصد کیلئے وکلاء نے اندور کے ڈویژن کمشنر اور وزیر داخلہ کو میمورنڈم بھی ارسال کیا ہے۔

خیال رہے کہ وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے۔اس اقدام کو مسلم تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔مدھیہ پردیش کی جمعیت علماء نے بیان دیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنی تقریبات میں کرتے ہیں۔

جمعیت علماء کا کہنا تھا کہ صوتی آلودگی تو دیگر سیاسی اجتماعات، گاڑیوں کے شور اور شادیوں پر بینڈ باجے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کا مطالبہ کرنے والے لوگ اپنی مذہبی تقریبات میں تو شریک ہوتے نہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر داخلہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وکلاء کی جانب سے ارسال کیے گئے میمورنڈم کو نظر ثانی کیلئے آگے بھیج دیا گیا ہے۔رپورٹ آنے پر ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

Leave a Reply