چین کااقوام متحدہ

چین کااقوام متحدہ کےنمائندےکو متنازعہ علاقوں کادورہ کرنےکی اجازت

چین کااقوام متحدہ کےنمائندےکو متنازعہ علاقوں کادورہ کرنےکی اجازت

(ہم دوست نیوز): اطلاعات کے مطابق چین نے آئندہ ماہ بیجنگ میں ہونے والے ونٹر اولمپکس گیمز کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندے کو زن جیانگ کا دوستانہ دورہ کرنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق چینی حکومت نے اولمپکس مقابلوں کے بعد اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مائیکل بیچلیٹ کو زن جیانگ کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کا یہ دورہ دوستانہ ہوگا۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے چین پر الزام عائد کیا جاتا ہےکہ وہ زن جیانگ کے مغربی علاقے میں اویغور سمیت دیگر اقلیتیوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔جس میں تشدد ، زبر دستی زیر حراست رکھنے اور جبری مشقت جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔

امریکا چین پر زن جیانگ میں اقلیتوں کی نسل کشی کا الزام عائد کرتا ہے۔جبکہ برطانیہ کا ایک غیر سرکاری اور خود مختار ٹریبونل فیصلہ سنا چکا ہے کہ بیجنگ اس خطے میں نسل کشی کرنے کا ذمہ دار ہے۔

خیال رہے کہ بیجنگ ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے انتہا پسندی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مائیکل بیچلیٹ اس علاقے کا دورہ کرنے کے لیے ستمبر 2018 سے چین کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ اس خبر کے حوالے سے تاحال چینی وزارت خارجہ ، اقوام متحدہ میں موجود چینی مشیر اور خود اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

Leave a Reply