سانحہ تلمبہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،طاہر محمود اشرفی

خانیوال (ہم دوست نیوز) چئیرمین پاکستان علماکونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سانحہ تلمبہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کے ذمہ داران کو سخت سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔تلمبہ واقعہ میں ملوث 62 کے قریب لوگ گرفتار ہیں 300 افراد پر ایف آئی آر درج کی جا چکی ھے موجودہ حکومت 76 سال بعد فوجداری قوانین میں تبدیلیاں لا رہی ہے۔

تاکہ سپیڈی ٹرائل ہو اور اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب خود صورتحال کو خود مانیٹر کررہے ہیں انہوں نے یہ بات سانحہ تلمبہ کے حوالے سے سرکٹ ہائوس خانیوال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ڈپٹی کمشنر سلمان خان ،ڈی پی او سید ندیم عباس اور ممبران امن کمیٹی بھی ان کے ہمراہ تھے۔چئیرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم نے اس موقع پر مزید کہاکہ خود ہی جج اور منصف بننے کے رجحان کو مل کر ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جس نے کوتاہی کی چاھے وہ کوئی بھی ہو اسے سزا دی جائے گی مشتاق ذھنی طور پر معذور تھا مشتعل ھجوم نے جو کچھ کیا وہ کسی طور قابل قبول نہیں۔

میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ھے سیالکوٹ واقعے پر بھی تمام مکاتب فکر نے ذمہ داروں کو سزا کے حوالے سے ایک موقف اپنایا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ سے درخواست ھے کہ اس نوعیت کے کیسز کو فوری طور پر حل کیا جائے وزیراعظم ایک ایک لمحہ کی رپورٹ لے رھے ھیں لوگوں کو مارنے اور جلانے والوں کو کسی طور معاف نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کا ساتھ چاھتے ھیں ،تمام مذاھب کا اس پر اتفاق ھے کسی بھی شخص کو چاھے وہ گناہ گار بھی ھو اسے قتل نہیں کیا جا سکتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو سمجھنے ۔اور اسکی پیروی وقت کی ضرورت ہے مظلوم مشتاق کے معاملے پر بھی ھم سب کو ایک پیج پر ھونا ھے۔انہوں نے کہا کہ دین کی تشریح اپنی مرضی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کا ایک قانون ھے جس نے کسی ایک جان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ھم نے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا ھے۔ھمارے دشمن کو ایسے واقعات تقویت دیتے ھیں۔قبل ازیں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے ہمراہ ممبران امن کمیٹی سے بھی میٹنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ علماء اپنے علاقوں میں جاکر لوگوں کو بھائی چارے کا درس دیں اور واقعہ کی مذمت کریں۔

Leave a Reply