معروف شخصیات پر جوتا پھینکے جانے کے 10 واقعات

آج 6 مارچ کو اسلام آباد میں ن لیگ کے رہنما احسن اقبال دیگر پارٹی قائدین کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کررہے تھے کہ شرکاء کی طرف سے ایک جوتا اچھالا گیا جو لیگی رہنما احسن اقبال کے سر میں لگا. یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے واقعات کی ایک پوری تاریخ موجود ہے. آئیے، دس ایسے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں معروف شخصیات کی طرف جوتا اچھالا گیا.

1. جارج بش

سابق امریکی صدر ، جارج بش پر دسمبر 2008 میں ایک عراقی صحافی نے ایک نہیں، بلکہ دو جوتے امریکی صدر کی طرف اچھالے۔ یہ واقعہ بغداد میں پیش آیا جب امریکی صدر جارج بش میڈیا سے گفتگو کررہے تھے کہ اچانک عراقی صحافی منتظر زیدی نے غیر متوقع طور پر یکے بعد دیگرے دو جوتے امریکی صدر جارج بش کی طرف اچھالے جن سے امریکی صدر کمال پھرتی سے جھکائی دے کر بچ گئے۔

2. جنرل پرویز مشرف

کراچی کے ایک وکیل تجمل لودھی نے پاکستانی صدر پرویز مشرف پر مارچ 2013 میں جوتا پھینکا. بعد ازاں تجمل لودھی نے جوتے پھینکنے کی وجہ یہ بتائی کہ مشرف جمہوریت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں. جوتا سیدھا پرویز مشرف کی ناک پر جا لگا.
پرویش مشرف پر جوتا پھینکنے کا یہ واقعہ اگلے سال فروری کے مہینے میں پھر پیش آیا جب وہ لندن میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے. شرکاء میں سے کسی نے انکو جوتا دے مارا جسے منتظمین نے موقع پر حراست میں لے لیا.

محولہ تصویر میں ایک موقع پر ایک شخص پرویز مشرف کی تصویر پر جوتا مار رہا ہے

3. ما ینگ جو

چینی صدر ما ینگ جو اس معاملے میں سب سے زیادہ بدقسمت واقع ہوئے ہیں. صرف ایک سال یعنی 2013 میں چینی صدر ما ینگ جو پر مختلف مواقع پر تقریبا 9 بار جوتے سے حملہ کیا گیا. چینی صدر کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور جوتے پھینکنے کے ان واقعات پر بہت سی میمز بھی بنائی گئی.

4. ٹونی بلئیر

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر اپنی کتابوں پر دستخط کرنے کیلیے ڈبلن ، آئرلینڈ پہنچے تو مظاہرین نے سخت ہنگامہ آرائی کی. اور ان کی گاڑی پر جوتوں کی بوچھاڑ کردی.

5. جان ہوورڈ

آسٹریلوی وزیراعظم جان ہوورڈ پر دو جوتے اچھالے گئے جب وہ ABC نیوز پر سوالوں کے جوابات دے رہے تھے. عراقی جنگ کے ایک مخالف نے ان پر دو جوتے پھینکے. جوتا پھینکنے والے کا نام پیٹر گرے تھا ، بعد میں معلوم ہوا کہ اس اسٹنٹ کے ذریعے اس کا مطمع نظر عالمی توجہ حاصل کرنا تھا. آسٹریلوی وزیراعظم اس موقع پر غصہ ہونے کے بجائے مسلسل مسکراتے رہے.

6. میاں نواز شریف

11 مارچ 2018 مدرسہ جامعہ نعیمیہ لاہور کی ایک تقریب کے موقع پر میاں نواز شریف جب خطاب کیلیے ڈائس پر تشریف لائے تو ایک شخص نے اچانک ان کی طرف جوتا اچھالا، میاں نواز شریف بچتے بچاتے ہوئے بھی اس جوتے کی زد میں آگئے اور جوتا ان کے سر میں لگا. جوتا مارنے والے کو موقع پر دھر لیا گیا اور اس کے خلاف باقاعدہ عدالتی کاروائی گئی. جس میں اس نے بتایا کہ جوتے مارنے کی وجہ ممتاز قادری کے خلاف نواز حکومت کے اقدامات اور ختم نبوت قانون کو ختم کرنے کیلیے نواز حکومت کی کوششوں نے اسے جوتا مارنے پر اکسایا.

7. ہیلری کلنٹن

10 مارچ 2014 کو سابق امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کیلیے جونہی اسٹیج پر آئیں تو کسی نے مجمعے میں سے ان کی طرف جوتا اچھالا. ہیلری کلنٹن جھکائی دے گئیں اور جوتا ان کے سر کو تقریبا چھوتا ہوا گزر گیا. پولیس نے موقعے پر جوتا پھینکنے والی خاتون کو گرفتار کرلیا. بعد ازاں عورت کے خلاف باقاعدہ قانونی کاروائی کی گئی.

8. حسن روحانی

ستمبر 2013 میں ایرانی صدر حسن روحانی کی تہران آمد پر مظاہرین کی طرف سے ان کی طرف جوتا اچھالا گیا. ائیرپورٹ پر ایرانی صدر کے مداح ان کا استقبال کرنے کیلیے آئے ہوئے تھے ، اور صدر کے ناقدین کی بھی ایک بڑی تعداد احتجاجا وہاں جمع تھی. ان کی طرف سے جوتا اچھالنے کا یہ واقعہ رونما ہوا.

9. احمدی نژاد

ایران کے سابق صدر احمدی نژاد بھی ان شخصیات کی فہرست میں آتے ہیں جن پر جوتا پھینکا گیا. ان کے ساتھ یہ واقعہ فروری 2013 میں پیش آیا جب وہ مصر کے دورے پر تھے. جوتا پھینکنے والے شخص کا تعلق شام سے تھا. جوتا پھینکنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایرانی صدر کی شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت سے خطے میں جنگ کا سامان ہورہا ہے. اسی غم و غصے کے اظہار کے طور پر جوتا پھینکنے کا یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا.

10. شیخ رشید

مارچ 2017 میں جب شیخ رشید پی ایس ایل کا فائنل میچ دیکھنے کیلیے لاہور بذریعہ ریل تشریف لائے تو مجمعے میں سے کسی نے ان کی طرف جوتا اچھالا جو سیدھا ان کے سر میں جا لگا. اس قسم کے واقعات پاکستان مین کم کم ہی پیش آتے ہیں‌لیکن شیخ رشید احمد کے ساتھ اس قسم کے واقعات اکثر و بیشتر رونما ہوتے رہتے ہیں. انہی دنوں وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو بھی کسی نے ایک تقریب میں جوتا دے مارا تھا جس کی زد میں آنے سے وہ بال بال بچے تھے.

Leave a Reply