پیر کوہ کو پانی دو : عافیہ رائے

پاکستان نے اپنے قیام سے لیکر آج تک جتنے مسائل کا سامنا کیا ھے انکی فہرست بہت طویل ھو جائے گی۔
لیکن یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ھے لیکن بدقسمتی سے ان سے نبرد آزما ھونے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، حالیہ مردم شماری سے آبادی کتنی ھے یہ تو پتہ چل گیا مگر اس آبادی کو درپیش مسائل سے ھم آگاہ نہیں یا ھونا نہیں چاھتے.

لڑکا جوہڑ کا پانی بھرنے پر مجبور ہے

اس وقت سب مسائل سے زیادہ خطرناک پانی کا مسئلہ ہے. کوئی شہر یا علاقہ نہیں جو اس مسئلے کا شکار نہیں۔
ملک میں بارشوں سے ھر سال 145 ملین گیلن پانی آتا ھے لیکن ذخیرہ نا کرنے کی سہولت کے پیشں نظر صرف 13۔7 ملین فی ایکڑ بچایا جا سکتا ھے۔۔۔۔
پاکستان میں سب سے زیادہ خشک سالی کا شکار بلوچستان ھے جسکا دارو مدار بارش کے پانی پر ھے.
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشیں متاثر ھیں اور زیر زمین پانی مزید نیچے ھوتا جا رھا ھے، کئی مقامات پر تو 200 فٹ پر بھی پانی دستیاب نہیں مگر استعمال میں کوئی احتیاط نہیں.
پاکستان ملک سے گزرنے والے پانی کا 10 فیصد ھی ذخیرہ کر پاتا ھے۔

معصوم بچے سارا دن پانی بھرکر لانے میں مصروف رہتے ہیں

بلوچستان اس کمی کا اسقدر شکار ھے کہ پیرکوہ میں پانی کی کمی کے مسئلہ کو لے کر احتجاج کیا گیا، ان کا کہنا تھا کے ھمارے مویشی بھی پانی کی کمی کے باعث مر رہے ھیں، اگر یہی سلسلہ رھا تو ھم اپنے روزگار کے سلسلے کو کیسے جاری رکھیں گے.

بعض اوقات گھنٹوں پانیکا انتظار کرنا پڑتا ہے

پیر کوہ کے باسی سراپا احتجاج ھیں کہ

“پیر کوہ کو پانی دو”

بلوچستان حکومت کا یہ شکوہ ھے کہ ان کے حصے کا پانی دوسرے صوبوں کو دے دیا جاتا ھے۔

بچے ہاتھ کی ٹرالی میں پانی بھر کر لا رہے ہیں

لیکن در اصل یہ ھماری حکومتوں کی نااہلی ھے ، ھمسایہ ملک ھمارے دریاوں پر ڈیم بنائے چلا جا رھا ھے اور ھم ھاتھ پر ھاتھ رکھے بیٹے ھیں. نہ ھمیں ڈیم بنانے کی توفیق ھو رھی اور نہ ھی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس۔
“کیا پاکستان پانی کی لڑائی کی طرف گامزن ھے؟”

Leave a Reply