“ژوب کا سفر “سفرنامہ: تحریر ظاہر محمود

اس سمے ژوب کے پہاڑوں میں غرق ہوا پڑا ہوں- خنک ہوا ناک اور کانوں کو چھو کر گزرتی ہے تو ٹھنڈک کا احساس تادیر قائم رہتا ہے- کھلے آسمان تلے پہاڑوں کے دامن میں بے یارومددگار پڑا ہوں- تنہائی ایسی کہ کتا بھی بھونکے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے- تارے اربوں سالوں کی مسافت طے کرتے نظر آتے ہیں- یوں لگتا ہے کہ ابھی میرے اوپر آ گریں گے- پہاڑی جڑی بوٹیوں کی خوشبو گردو نواح کو معطر کیے ہوئے ہے- ایسے میں مجھے اس پری وش کی یاد ستانے لگی جس میں میری جان ہے- میں نے اسے کال ملائی- اُدھر سے ایک مدھر سی آواز میں ہیلو کی آواز آئی- ایک لمحے کو یوں لگا جیسے جنت کی سب سے میٹھی نہر نے سَیر کر دیا ہو- میں نے کہا یار ساحلِ سمندر ہو یا دامانِ کوہ، صحرا کی یخ بستہ سیاہ رات ہو یا پھر آج کی کسی طور بے بس، ٹھنڈی، جنت نظیر تاروں بھری ژوب کی پہاڑیاں، تمہاری یاد کے بنا ادھوری لگتی ہیں- وہ پری وش بھی ایویں ہی میرے دل پہ قابض نہیں، کہنے لگی ظاہر! زندگی میں جب تم ایسی زندگی کا لطف لے رہے ہو تو یہ ساتھ بہت ضروری ہے- گو کہ اسے صبح ایم فل کے لیے داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرنا تھی مگر اُس نے میری اِس یادگار میں رَس گھول دیا- اب یہ رات میں اس کے ذکر میں گزاروں گا-
عبدالبصیر نے گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے شور ڈال رکھا تھا کہ جس نے مزری غر نہیں دیکھا اوہ جمیا ای نئیں- جب سے یہ خود اس چوٹی کو دیکھ آیا ہے، آسمان سر پہ اٹھا رکھا ہے- ہر آتے جاتے شخص کو روک روک کر یہاں کے قصے سناتا ہے- مجھے بڑی امید سے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو تو یہ دیوانگی سمجھو- سو قصد کیا اور زادِ راہ لیا- جمعے کی رات ڈیرہ اسماعیل خان کو نکلے- یہ صاحب تو مزری غز کے عشق میں ایک لمحہ نہ سو سکے مگر میں نے خوب ٹِکا کر نیند پوری کی- چشمہ بیراج کے پاس جا کر بس والے نے چائے پلوائی تو جھٹ کو آنکھ کھولی مگر بیراج پار کرتے ہی پھر ستو پی کر سو گیا- صبح دم ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تو میرے یارِ طرح دار سجیل ناصر ایڈووکیٹ کے چچیر نے دبوچ لیا- کہنے لگا آپ کی سیوا کا حکم سجیل بھائی نے لاہور سے صادر فرمایا ہے، لو سامان پھینکو گاڑی میں اور سر تسلیمِ خم کرو- ہمیں لیے قلعہ اقبال گڑھ پہنچ گیا- تھوڑی دیر سستا لیے تو دھمبڑ دھوس قسم کا ناشتہ لیے پہنچ گیا- ڈیرے کا سپیشل حلوہ، چنے پراٹھے، انڈے، بالائی اور نجانے کیا کیا- ہم نے بھی خوب انصاف کیا- دعا میں سجیل بھائی کا شکر ادا کیا اور سوئے منزل چل پڑے-
سیانے کہتے ہیں، بلکہ سیانوں کو چھوڑو میرا کہا ہی سن لو کہ کبھو اناڑی بندے یا نوزائیدہ سیاح کے ساتھ سفر نہ کیجیو- سالا تین گھنٹے موبائل بیٹری چارجر کے چکر میں ڈیرہ اسماعیل خان کا طواف کیا- بالآخر ژوب کی گاڑی پکڑی اور مزری غز کی جانب روانہ ہوئے- ژوب کی یہ سڑک سی پیک کا حصہ ہے لہذا اس کی تعمیر و مرمت کا کام جاری و ساری تھا- بعض جگہوں پہ ایسی سڑک کہ گاڑی رُک جانے کا گماں ہو اور بعض جگہوں پہ ایسی کہ آنتیں بھی آنتوں میں دھنسنے لگ جاتیں- ایک جگہ نماز کا قیام ہوا تو ہم سے اللہ والوں نے پرچون کی ایک دکان میں پناہ ڈھونڈی- اس سارے علاقے میں ہماری پہچان اور توجہ کا مرکز ہونے کی ایک ہی وجہ تھی اور وہ تھا ہمارا انگریزی لباس- اکثر تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم فرنگی ہوں اور ان کے ریسورسز کو لوٹنے آئے ہوں- خیر ژوب کا پہاڑی سلسلہ کوہِ سلیمان شروع ہوا تو اسی پری وش کی کال آئی جس کا اوپر ذکر کیا- میں نے چھوٹتے ہی کہا تم میری جان کیوں نہیں چھوڑتی تو کہنے لگی دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اور جب ایک دل کو دوسرے دل کی کمی محسوس ہو تو دوسرے دل کو بھی سگنلز پہنچتے ہیں- میں نے اسے بتایا کہ اس سمے میرے پیشِ نظر تختِ سلیمانی والی چوٹی ہے جس کے بارے میں روایات ہیں کہ حضرت سلیمان کا اڑن تخت اس چوٹی پر بھی کبھی اترا تھا- خدا جانے ایسا کبھی ہوا بھی تھا یا نہیں مگر قصہ اچھا ہے- پڑواڑا کا مقام ایسا ہے جہاں سے دائیں طرف مُڑیں تو ڈیرہ اسماعیل خان سو کلومیٹر پڑتا ہے اور اگر بائیں جانب مُڑیں تو ژوب سو کلومیٹر کی مسافت پر ہے- وہیں ایک صاحب نے ہمیں اترنے کا کہہ رکھا تھا- ڈرائیور نے کہا کہ پچھلی سیٹ پر ہو تو کھڑکی سے ہی پھلانگو، سو زندگی میں یہ حرکت بھی پہلی دفعہ کرنی ہی پڑی- وہاں رفیق صاحب آئے- کیا ہی زندہ دل آدمی تھا- بھائی چائے آنے تک معلوم ہوا کہ اس نے ہمیں رات اپنے پاس ٹھہرانے کا انتظام کر لیا ہے اور تیس بٹیرے شکار کر لیے ہیں- ہماری مارے حیرت کے چیخ نکلتی رہ گئی کہ ظالم کہیں کے ہَمری خاطر ان معصوم جانوں کی قربانی کیوں؟ خیر یہ سب تو کہنے کی باتیں ہیں، منہ سے رالیں بہرحال ضرور ٹپکیں چونکہ ہم رات وہاں ان کے پاس نہیں رہ سکتے تھے اور ابھی ہماری منزل ہم سے کوسوں دور تھی- اس نے واپسی پہ بٹیروں کی اچھی خاصی فصل ہمارے ساتھ روانہ کرنے کا عہد کیا اور ہمیں اپنی بائیک سونپ دی-
اب اس سے آگے ژوب کی فلگ شگاف، حیرت انگیز اور گنجلک پہاڑیاں تھی، ساتھ ساتھ عجیب و غریب گدلے سبزی مائل پانی کی پُر خطر ندی تھی، اوپر بصیر تھا اور آگے عبدالبصیر- ہم بلوچستان کی حدود میں داخل ہو رہے تھے- سڑک ویران اور سنسان تھی- ایسی سنسان کہ روح کانپ اٹھے- کہیں سورج بَدلیوں سے آنکھ مٹکا کر رہا تھا تو کہیں مختلف پہاڑی سلسلوں کی تین چار تہیں آپس میں بغل گیر نظر آتیں- اس ہُو کے عالم میں اگر کوئی دوسرا اپنی سپی شیز کا فرد نظر آ جاتا تو جان میں جان آتی- میں زوردار سلام عرض کرتا، کوئی نہ کوئی حال احوال کا جملہ پھینکتا اور عبدالبصیر اسے پکڑ کر اگلے ٹرک تک لطف لیتا- رستے میں کہیں کہیں قبائلی اپنی کالی، سفید، بھوری بھیڑیں چَراتے ہوئے ہمیں یوں دیکھتے جیسے ہم لاہور میں کسی پردیسی سیاح کو دیکھتے ہیں- کبھی سڑک کے بیچ کھڑے ہو کر تصویر بنواتے تو کبھی پہاڑوں، سورج، بادلوں اور وادیوں کی منظر کشی کرتے- ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہماری منزل کتنی مسافت پر ہے اور ہم ڈھلتے سورج اور پہاڑوں کے بیچ رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے- ایک جگہ مجھے خیال آیا کہ یار کیا ہی اچھا ہو کہ بلوچستان کی پہاڑیوں میں بائیک چلاؤں- عبدالبصیر کو روکا، نیچے اتارا اور خود ملاح بن بیٹھا- ڈھلتے ڈھلتے سورج ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے لگا- بڑھتے بڑھتے پہاڑی سلسلہ مزید خوفناک صورت اختیار کرنے لگا- شام کے دھندلکے میں یکدم گاڑیوں کی بھیڑ لگ گئی- اتنے لمبے سنسان سفر میں اچانک اتنی بھیڑ دیکھ کر جی گھبرانے لگا- ندی کا پانی بھی دھیرے دھیرے ٹھاٹھیں مارنے لگا- پہاڑوں نے چاروں طرف سے ایسے گھیرا کہ ہم پر سایہ کر لیا- ایک تو شام کی سراسیمگی، دوم پہاڑوں کی آغوش۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ دل تھا کہ مضطرب تھا، جان تھی کہ ہتھیلی پر- مجھے ہائیڈرو فوبیا بھی ہے اور ہائیٹ فوبیا بھی، اس کے باوجود میں ندی کناروں، جھیلوں، دریاؤں، ڈیموں، پہاڑوں پہ جانے کو ہر وقت تیار رہتا ہوں- کچھ سمے تو بال کھڑے ہوتے ہیں مگر بالآخر کوئی نہ کوئی حسیں یاد ساری عمر کے لیے ساتھی بن جاتی ہے- تھوڑا سا آگے ہوئے تو پہاڑوں سے عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں- ایک نقاب پوش شخص نے بائیک قریب کر لیا- پسینے چھوٹنے لگے کہ بھئی اب یا تو جان گئی یا پھر کم از کم موبائل اور نقدی تو گئی ہی گئی مگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس شخص کے بائیک کی بتی خراب تھی، وہ ہمارے ہی آسرے پر تھا- اس نے ہمیں ہماری منزل تک چھوڑا-
سات، ساڑھے سات بجے سَنگر کا بورڈ نظر آیا تو اس خوفناک اور جان لیوا سفر سے جان چھوٹی- مظفر گڑھ سے منظور لاکھانی مسلسل ہمارے ساتھ رابطے میں تھے- انہوں نے ہی یہاں سَنگر میں ہماری خاطرداری کا انتظام کروایا- کچھ سمے انتظار کیا تو ڈاکٹر میر حسن کے پانچ چھ بھائیوں کی برات کے ساتھ ہم ایک وادئِ دامنِ کوہ میں اتر گئے- گھر پہنچے تو اسباب لگنے لگے- آس پاس کے سب لوگ وہیں منڈلی سجا کر بیٹھ گئے- جس کو جہاں جگہ ملی، اوپر، نیچے، سیڑھیوں پر یا صحن میں بیٹھتا گیا- کسی خدا کے بندے کو اردو آتی تھی، پنجابی نہ سرائیکی- صرف ڈاکٹر میر حسن کو ٹوٹی پھوٹی اردو آتی تھی اور اس نے ہمارا بڑا ساتھ نبھایا- بیٹھے ہی تھے کہ ایک صاحب “چلمل” لیے حاضر ہو گئے- ہمارے منہ کے سامنے ہمارے ہاتھ دھلوائے- وہ گئے نہیں تو دوسرے صاحب روٹیوں کا ایک ٹوکرہ اٹھا لائے- دیکھتے ہی دیکھتے دسترخوان بچھا اور خوب بچھا- ہم بھی پیٹ کے بڑے پجاری ہیں- دو دو ہاتھ کیے اور بنا بولے ہاتھ کیے- روٹی گئی نہ تھی کہ چائے کی چَینک رقص کناں ہونے لگی- بس پھر چائے کے دور چلے، سگریٹیں پھونکیں، گھر والوں کو اطلاع دی کہ ابھی زندہ ہوں اور سلامت بھی، نیز یہ بھی کہہ ڈالا کہ جنت میں ہوں- ابا حضور بولے! میاں ہم نے تو جنت دیکھی نہ سنی، بتلاؤ تو یہ چکوال سے کتنی دور ہے، خدا کا شکر ہے کہ پھر کال کٹ گئی وگرنہ اگر انہیں یہ بھنک پڑ جاتی کہ میں بلوچستان میں ہوں تو ان کی روح ادھر چکوال میں قل ھواللہ پڑھنے لگتی- اس دوران عبدالبصیر ڈاکٹر میر حسن سے مکالمہ چھیڑ چکا تھا- معلوم ہوا کہ ڈاکٹر میر حسن تو چٹے اَن پڑھ ہیں، مگر اس علاقے کے پولیو ورکر ہیں سو سبھی انہیں ڈاکٹر ڈاکٹر بلاتے ہیں- وہ یہ کام فقط چار سو روپے دیہاڑی پہ کرتے ہیں یعنی مہینے کے بارہ ہزار اور اسی سے دس بارہ لوگوں کا ٹَبر پَلتا ہے- ڈاکٹر میر حسن اپنی کتھا ہمیں یوں سنانے لگا جیسے ہم کوئی مسیحا ہوں- کہنے لگا کہ بھائیو! یہاں اس علاقے میں نہ کوئی سکول ہے اور نہ ہی اسپتال، روزگار کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ بھیا سڑکیں اور بجلی کا نظام تو بہت بڑھیا ہے- تھوڑا سا جھجکا، بتایا کہ یہ تاریں اور کھمبے تو ہیں مگر ہماری چالیس بہاروں میں ان میں کبھو کرنٹ نہ آیا- بتایا کہ اوپر پہاڑیاں زیتون، چلغوزے، معدنیات اور طرح طرح کی رنگدار اور خوشبودار بوٹیوں اور نباتات سے اَٹی پڑی ہیں، دور دراز سے حکما اور پردیسی یہاں خزانوں کی ٹوہ میں آتے ہیں، مگر ہم چونکہ ناخواندہ ہیں، سو نہ تو ہمیں کوئی فائدہ ملا نہ ہی کوئی جانکاری- باقی ایک دو لوگ جنہیں اردو تھوڑی بہت آتی تھی وہ بھی اپنی ازلی محرومیوں کا نوحہ پڑھنے لگے- جب وہ جانے لگے تو میں نے واش روم کا پوچھا- جواب ملا کہ وہ ہیں پتھر اور وہ ہے زمین، یہ سب تمہارے لیے ہیں- ساتھ ایک پانی بھرا لوٹا دیا کہ بوقتِ ضرورت کام آ سکے- یہ وہی لوٹا تھا جس سے اس سے پہلے کھانے کے دوران پینے کے گلاس بھر بھر کر دئیے جاتے رہے- اب سب جا چکے- بٹیروں، تیتروں کی چہ میگوئیاں معدے کی بھوک بڑھا رہی ہیں- ستاروں کو اتنے قریب سے دیکھ کر ان پر کمندیں ڈالنے کا جی کر رہا ہے- ایک ستارہ جو اس پار شیرانی غر کی اوٹ سے ابھرا تھا اب وسطِ آسمان پہنچ چکا ہے- ہلکی ہلکی ٹھنڈ اور تنہائی ہے کہ اس پری وش کے ذکر سے معطر ہے- صبح مزری غر جانا ہے-

Leave a Reply