مہر بخاری اور مقتولہ

مہر بخاری اور مقتولہ سارہ کا آپس میں کیا رشتہ تھا ؟

(ہم دوست نیوز): “سارہ ایک بہت مہربان اور پیاری روح تھی۔” جی ہاں ! یہ الفاظ ہیں ملک کی نامور صحافی مہر بخاری کے، جن کی ایک ٹویٹ نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔

مہر بخاری کا کہنا ہے کہ میں اور سارہ کینیڈا کے کالج میں کلاس فیلو تھیں۔ وہ ایک مہربان اور بہت ہی پیاری روح تھی، وہ بہت نرمی سے گفتگو کرنے والی خاتون تھی اور یہ اس کی پہلی ہی شادی تھی۔

یہی نہیں بلکہ اس نے پوری دنیا کا سفر کیا ہوا ہے، وہ بہترین جگہوں پر کام کرتی رہی ہیں لیکن اب وہ ایک بہترین، مضبوط ، اچھا اور صحت مند گھر بنانا چاہتی تھیں۔

مہر بخاری کی طرف سے مقتولہ سارہ کی انسٹاگرام پر کی جانے والی آخر پوسٹ بھی شیئر کی گئی ہے اور مہر بخاری نے لکھا کہ وہ اس وقت سمجھتی تھی کہ وہ سب ٹھیک کر لے گی۔

واضح رہے کہ 12 ستمبر 2022ء کو سارہ نے یہ پوسٹ کی تھی اور اس وقت انہوں نے ہاتھ میں ایک کتاب بھی پکڑ رکھی تھی اور اس کے ساتھ فارسی کے مشہور شاعر شمس تبریز کا قول بھی درج کیا تھا، جو یوں ہے:

“بالکل اسی طرح ہے کہ اس نے میری زندگی میں رنگ بھر دیے، تاہم میری زندگی کا ایجنٹ بہت بری طرح متاثر ہوا، شمس تبریز فرماتے ہیں کہ خزانے ہمیشہ کھنڈرات میں ہی چھپے ہوتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے دلوں میں خزانے جمع ہوتے ہیں۔”

واضح رہے کہ ایاز امیر کے بیٹے نے اپنی بیوی کے سر پر ورزش کرنیوالا ڈمبل مار کر اسے قتل کر ڈالا تھا اور پھر اس کو باتھ ٹب میں ڈال کر پانی کھول دیا ، اور یہ افسوس ناک واقعہ چک شہزاد میں واقع ان کے فارم ہاؤس میں پیش آیا تھا۔

Leave a Reply