کیا ہم ایک مہذب قوم ہیں ؟: ثمینہ محمدیہ

کوئی بھی قوم اس وقت تک مہذب کہلاتی ہے جب تک وہ اپنے دین اور اخلاقی اقدار کو سلامت رکھتی ہے ۔ ہمیں بحثیت مجموعی قوم یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس اخلاقی پستی پر کھڑے ہیں ۔ ہماری آنے والی نسلوں کی ترجیحات کیا ہیں ؟ ہمارے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو وہی سیکھا رہے ہیں جو اخلاقیات کے لحاظ سے بلند ہے یا پھر ہم اخلاقیات کے لحاظ سےپستی کی طرف گرتے چلے جارہے ہیں ۔

آج کل سوشل میڈیا پر آپ کو عام ٹرینڈ نظر آئے گا کہ لوگ چند کمنٹس کی خاطر قرآنی آیات کا مذاق بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ایسا عام طور وہ لوگ کرتے ہیں جن کا اسلام سے نہ کوئی تعلق ہوتا ہے اورنہ واسطہ ۔بس مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگئے اور خود کو مسلمان سمجھنےلگ گئے ۔ لیکن ایسے لوگوں کی پوسٹ دیکھ کر عام اور سادہ لوح مسلمان بھی ان کی پوسٹ کو محض ہنسی مذاق سمجھ کر آگے شئیر کرتے ہیں اوراپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی دنیا اورآخرت کی تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن کی آیات کے ساتھ مذاق کرنا کفار اور منافقین کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں ۔

اے مسلمانو تم پر رمضان کے روزے فرض کیے گے ہیں پکوڑے نہیں

جس کے نصیب میں میں ہوں وہ اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائے گا ۔

اس طرح کے بہت سے جملے آپ کو دیکھنے اور پڑھنے کو ملیں گے لیکن ان باتوں کو لکھتے اور شئیر کرتے اور ان پر کمنٹ کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے ہم اپنا ایمان تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کو اس بات سے منع کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف مذاق کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ منافقین بھی یہی کہا کرتے تھے ۔

اللہ پاک فرماتا ہے کہ
اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟
(سورة التوبہ 65)

خدارا مسلمانو ،کچھ تو ہوش کے ناخن لو ، کیا ہم اتنے گِر گئے ہیں کہ ہم نے سوشل میڈیا پر اہمیت حاصل کرنے کے لیے اپنے دین ، اپنے قرآن ، اپنے اسلام کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ، کیا ہم اتنے گر چکے ہیں کہ ہم نے چند کمنٹس کی خاطر اپنے دین کو مذاق بنا ڈالا ، مسلمانو ،خدارا اپنی آخرت کی فکر کرو ، چند کمنٹس کی خاطر اپنی قبر کو تاریک نہ کرو ۔ مسلمانو خدارا اللہ کے غضب کو آواز نہ دو ، قرآنی آیات کا تمسخر نہ بناو ، اگر کوئی نادانی میں ایسا کر چکا ہے تو وہ توبہ کرے اور تجدید ایمان کرے ۔خود بھی اس کام سے رک جائےاور دوسروں کو بھی اس گناہ سے روکے ۔

اللہ پاک ہمیں قرآن کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائےاور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Reply