حضرت حبیب بن مالک نے اسلام کیوں قبول کیا ؟

حضرت حبیب بن مالک یمن کے بہت بڑے سردار تھے ۔جب کفار مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھانے کا کہا تو ابوجہل نے یمن کے سردار حبیب بن مالک کو یہ پیغام بھیجا کہ جس شخص نے یہاں نبوت کا دعوی کیا ہے وہ فلاں تاریخ کو ہمیں چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائے گا ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بھی مقررہ تاریخ تک یہاں آجاؤ تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ وہ شخص ایسا کر کے دکھاتا ہے یا نہیں ؟

ابوجہل کا پیغام ملتے ہی حبیب بن مالک بھی وہاں پہنچ گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دیکھانا تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقررہ وقت پر آئے ، چاند کے دو ٹکڑے کیے اور واپس تشریف لے گئے ۔

حبیب بن مالک یہ معجزہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، چاند کے دو ٹکڑے تو آپ نے کر کے دیکھا ئیے اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ میرے دل کو کیا دکھ ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
جس کا مفہوم ہے کہ حبیب تیری ایک ہی بیٹی ہے جو گونگی ، بہری اور اندھی ہے اور ٹانگوں سے چل بھی نہیں سکتی ۔ تجھے تیری بیٹی کا دکھ ہی کھائے جا رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گھر جاؤ اور دیکھو اللہ تعالی نے تمہاری بیٹی کو شفا دے دی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
امانت داری کی انوکھی مثال

حضرت مالک بن حبیب یہ سنتے ہی جلدی سے اپنے گھر پہنچے ، جب گھر پہنچے اور دروازے پر دستک دی تو حضرت حبیب بن مالک کی بیٹی نے ہی کلمہ پڑھتے ہوئے دروازہ کھولا ۔ حضرت حبیب بن مالک نے اپنی بیٹی سے پوچھا یہ کلمہ تمہیں کس نے سکھایا ہے ؟

بیٹی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان فرمایا اور بولی ! بابا جان وہ آئے تھے اور انہوں نے مجھے ٹھیک بھی کر دیا اور کلمہ بھی پڑھا دیا ۔ بیٹی کی یہ بات سن کر حضرت حبیب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گے اور وہاں جا کر اسلام قبول کر لیا ۔

Leave a Reply