اخلاق اور عقل مبارک

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق اور عقل مبارک

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق اور عقل مبارک

اخلاق حسنہ کے بارے میں اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ :
بیشک ہم نے آپ کو اخلاق کے اعلی درجے پر فائز کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کے حوالے سے ہر لحاظ سے بہترین ہیں ۔

آخری رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر عدل و انصاف ، رحم و کرم ، جود و سخاوت ، ایثار اور قربانی ، شجاعت ، حسن معاملہ ، مہمان نوازی ، نرم گفتاری ، صبروقناعت ، ملنساری ، خوش روئی ، غمخواری ، مساوات ، سادگی ، بے تکلفی ، انکساری اور حیا داری جیسے تمام محاسن اخلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود ہیں ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق کیسا تھا ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : ” کان خلقہ القرآن ” یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن پاک کی تعلیمات پر پورا پورا عمل کہتے تھے ۔ یعنی کہ جو کچھ قرآن پاک میں ہے ۔وہ سب اخلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دین دی ۔ تو مجمع نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ۔لیکن آپ کے اخلاق پر انگلی نہ اٹھائی ۔ یہاں تک کہ آپ کے مخالفین بھی آپ کو صادق اور امین کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ خود بھی کہتا ہے ۔ا س نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نرم دل پیدا کیا ہے۔ کیونکہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت دل ہوتے یا بد اخلاق ہوتے۔ تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آتے ۔ اور اگر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نا آتے۔ تو آپ لوگوں کو دین اسلام کی دعوت کیسے دیتے ؟

دشمنان اسلام کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق روز روشن کی طرح موجود تھا ۔ تبھی تو اسلام کی مخالفت کے باوجود ، کفار نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار اور اخلاق پر انگلی نہیں اٹھائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اتنے عظیم اور اعلی درجے پر فائز ہیں ۔آج بھی اسلام کے دشمن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق و کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے ۔

یہ بھی پڑھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم اطہر

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وقت کے دشمن اور آج کے دشمن بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سب سے زیادہ رحیم و کریم ، نرم مزاج اور بلند اخلاق ہیں ۔

حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ
انہوں نے 71 کتابوں میں پڑھا ہے ۔یہ دنیا جب سے وجود میں آئی ہے ۔ تب سے لے کر قیامت تک کے انسانوں کی عقلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل شریف کے مقابلے میں، بالکل ایسے ہیں جیسے پوری کائنات کے ریگستانوں کے سامنے ایک ذرہ ہے ۔ یعنی کہ تمام انسانوں کی عقلیں اگر ملا دی جائیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل کے سامنے ایک ذرہ جتنی بھی نہیں ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق اور عقل مبارک” ایک تبصرہ

Leave a Reply