وہ لوگ جو کردار

وہ لوگ جو کردار کی بلندیوں پر پہنچے

وہ لوگ جو کردار کی بلندیوں پر پہنچے

امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی خلافت کے کام سے فارغ ہو کر گھر پہنچے ۔ آپ تھکے ہوئے تھے ۔ ابھی آرام کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی انتہائی غمگین حالت میں آپ کے پاس آئی اور کہنے لگیں ۔ اے امیرالمومنین اگلے ہفتے عید آ رہی ہے اور بچے نئے کپڑوں کی ضد کر رہے ہیں ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز بولے کے مجھے جو وظیفہ ملتا ہے اس میں مشکل سے گھر کا خرچ چلتا ہے ۔ میں کپڑے کیسے بنوا سکوں گا ۔ بیوی کہنے لگی کہ یہ مسائل میں جانتی ہوں ۔ آپ ایسا کریں کہ بیت المال سے کچھ قرض لے لیں ۔ تاکہ ہم بچوں کو کو نئے کپڑے بنوا کر دے سکیں ۔

حضرت عمر رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہنے لگے کہ بیت المال پر غریبوں اور مسکینوں کا حق ہے ۔ جب کہ میں ان کا امین ہوں ۔ میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ آپ نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہے تو وہ بیچ دیتے ہیں ۔۔بیوی کہنے لگی کہ آپ میرے تمام زیورات پہلے ہی بیت المال میں جمع کروا چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ جو میرے والد نے مجھے تحفہ میں ایک ہار دیا تھا ۔ آپ وہ بھی بیت المال میں جمع کروا چکے ہیں ۔ اب میرے پاس ایسا کچھ نہیں ہے کہ میں بیچ کر بچوں کے کپڑے بنوا سکوں ۔

امیر المومنین حضرت عمر رحمۃ اللہ تعالی علیہ سرجھکا کر بیٹھ گئے ۔ آپ کی نظروں کے سامنے وہ تمام منظر آگئے ۔ جب آپ مسلمانوں کے امیر نہیں تھے ۔ جب آپ مسلمانوں کے امیر نہیں تھے آپ جو لباس ایک مرتبہ پہنتے وہ دوسری مرتبہ نہ پہنتے تھے ۔ آپ جس گلی سے گزرتے آپ کی کی خوشبو سے لوگوں کو پتا چل جاتا ہے کہ یہاں سے حضرت عمر گزرے ہیں ۔ آپ انتہائی قیمتی عطر استعمال کیا کرتے تھے ۔

آپ نے امیرالمومنین بننے سے پہلے جو شاہانہ زندگی گزاری تھی ۔ وہ سارے لمحے آپ کی آنکھوں میں آ رہے تھے ۔ یہ سوچتے ہوئے آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

آپ نے بیت المال کے نگران کو خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے اگلے مہینے کی تنخواہ پیشگی دے دی جائے ۔ بیت المال کے نگران کے پاس خط لے کر جانے والا خادم جب نگران کا جوابی خط لے کر آیا تو اسے پڑھتے ہوئے حضرت عمر رحمہ اللہ تعالی علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا ۔ بیت المال کے نگران نے مجھے ہلاکت سے بچا لیا ۔

یہ بھی پڑھیں
قیمتی نگینہ کیوں بیچ ڈالا؟

جوابی خط میں نگران نے لکھا ہوا تھا ۔ اے امیر المومنین آپ کا حکم میری سر آنکھوں پر ۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ ایک مہینہ مزید زندہ رہ سکیں گے ۔ اگر نہیں تو پھر غریبوں اور مسکینوں کے مال کی حق تلفی پیشگی اپنی گردن پر کیوں لینا چاہتے ہیں ۔ ایک ہفتہ گزرا تو دنیا نے دیکھا کہ دیگر مسلمانوں کے بچے انتہائی قیمتی کپڑوں میں ملبوس عید منا رہے تھے ۔ جبکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالی علیہ کے بچے صاف ستھرے ، پرانے کپڑے پہن کر اپنے والد کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے عید گاہ کی طرف جا رہے تھے ۔

ان کے تن پر کپڑے تو پرانے تھے ۔ لیکن ان کے چہروں پر چمک دھمک اور آنکھوں میں آخرت کی کامیابی کی روشنی تھی ۔