حضرت منذر بن عمرو

حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نبی کریم ، رحمۃ اللعالمین ، راحۃ العاشقین ، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جانثار صحابی حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے عظیم مرد مجاہد ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں بھی شرکت فرمائی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہجرت مدینہ کرنے والا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دل کھول کر امداد کی ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب اعنق لیموت ہے ۔ یہ لقب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے دیا تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق قبیلۂ خزرج کے خاندان ساعدہ سے ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ کچھ یوں ہے ۔ منذر بن عمرو بن ، خنیس بن حارثہ بن لوذان ، بن عبد ود ، بن زید ، بن زید بن ثعلبہ ، بن خزرج ، بن ساعدہ بن ، کعب بن الخزرج الکبیر ۔ ،

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عقبہ ثانیہ میں بیعت کی ۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے قبیلہ کے نقیب مقرر ہوئے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت طلیب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مواخاۃ ہوئی ۔

حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ بدر اورغزوہ احد میں شرکت فرمائی۔ اور بہادری و شجاعت کے وہ کارنامے سر انجام دئیے جن کی مثال تاریخ عالم میں کہیں نہیں ملتی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ احد میں میسرہ کے افسر تھے ۔

غزوۂ احد کے 4 ماہ بعد صفر کے مہینہ میں انصار کے ستر نوجوان جو قراء کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ سب اشاعت اسلام کی غرض سے نجد بھیجے گئے ۔ حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جماعت کے امیر تھے ۔ جب یہ تمام حضرات بیر معونہ پہونچے تو رعل اور ذکوان کے سواروں نے گھیر لیا ۔ ان لوگوں نے ہر چند کہا کہ ہم کو تم سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے کام سے کسی طرف جا رہے ہیں ۔ ظالموں نے ایک نہ سنی اور سب کو شہید کر دیا ۔

صرف حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ باقی رہ گئے ۔ ان لوگوں نے حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ درخواست کرو تو تم کو امان دی جائے ۔ لیکن حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حمیت نے یہ گوارا نہیں کیا ۔ اور صاف انکار کر دیا ۔ ان ظالموں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی شہید کر دیا ۔ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو جب خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اعنق لیموت!یعنی انہوں نے دانستہ موت کی طرف سبقت کی ہے ۔ اس وقت سے ان کا یہ لقب خاص وعام کی زبان زد ہو گیا ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دور جاہلیت میں عربی لکھتے تھے ۔ اسلام نے قرآن وحدیث کی جو واقفیت بہم پہنچائی تھی ۔ اسی کی بنا پر اشاعت اسلام کے لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ منتخب ہوئے اور مبلغین کے امیر بنائے گئے ۔ زہد و تقویٰ،عبادت و ریاضت ، قیام لیل، یہ تمام قراء کا شیوہ تھا ۔ حضرت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انہی اوصاف کے حامل تھے ۔ اللہ تعالیٰ کی نبی کریم ، رحمۃ اللعالمین ، راحۃ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم پر بیشمار اور ان گنت رحمتیں ، برکتیں اور راحتیں نازل ہوں ۔

یہ بھی پڑھیں
نبی ﷺ کے وصال کے بعد مکہ لوٹ جانے والے صحابی

Leave a Reply