بخل کے بارے میں

بخل کے بارے میں اسلامی تعلیمات

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم نے فرمایا مفہوم ہے : سخاوت جنت میں ایک درخت ہے اور جو سخی ہے ، اس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے ۔ وہ ٹہنی اس کو نہیں چھوڑے گی جب تک جنت میں داخل نہ کروا لے ۔ اور بخل جہنم میں ایک درخت ہے اور جو بخیل ہے ، اس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے ۔ وہ ٹہنی اس کو جہنم میں داخل کئے بغیر نہیں چھوڑے گی۔
(شعب الایمان ، 7 / 435 ، حدیث : 10877 )

اللہ تبارک و تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم نے فرمایا مفہوم ہے کہ : مؤمن میں 2 خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں ۔ کنجوسی اور بد خُلقی۔
( ترمذی ، 3 / 387 ، حدیث : 1969 )

پیارے نبی رحمۃ للعالمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم کا فرمان حقیقت نشان ہے مفہوم ہے : اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں بھی ہوں ، تب بھی وہ تیسری کی خواہش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ ، قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ ( مسلم ، ص404 ، حدیث : 2415 )

حضورِ اکرم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم نے فرمایا مفہوم ہے: کنجوسی سے بچو ، کیوں کہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کر دیا تھا، کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی اور حرام کو حلال جانا۔
( مشکاۃ ، 1 / 354 ، حدیث : 1865 )

فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلَّم کا مفہوم ہے: ایسا کوئی دن نہیں ہے ، جس میں بندے سویرا کریں اور 2 فرشتے نہ اتریں ، ان میں سے 1 فرشہ تو کہتا ہے کہ : الٰہی سخی کو زیادہ اچھا اجر دے اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ الٰہی بخیل کو بربادی دے۔ ( مشکاۃ ، 1 / 353 ، حدیث : 1860 )

دھوکہ دہی کی ممانعت اور اسلامی تعلیمات

Leave a Reply