تکبر کی ممانعت

تکبر کی ممانعت اور اسلامی تعلیمات

تکبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دوسروں انسانوں سے افضل سمجھے

اللہ تبارک و تعالیٰ کے آخری نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا ۔ ہر طرف سے ان پر ذلّت طاری ہو گی ، انہیں جہنم کے ” بولس “ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ ان کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آ جائے گی ، ان کو ” طِیْنَۃُ الْخَبَال یعنی جہنمیوں کی پیپ “ پلائی جائے گی۔
( ترمذی ، 4 / 221 ، حدیث : 2500 )

نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ : کبریائی میری چادر ہے ، لہذا جو میری چادر کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اس کو پاش پاش کر دوں گا۔ ( مستدرك ، 1 / 235 ،

رحمتِ الٰہی سے محروم ہونے والوں میں متکبرین بھی شامل ہیں ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : جو تَکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ ( بخاری ، 4 / 46 ، حدیث : 5788 )

تاجدار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ( یعنی تھوڑا سا بھی ) تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ( مسلم ، ص61 ، حدیث : 266 )

رسول اکرم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلَّم کا فرمان ہے کہ : قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے قابل نفرت اور میری مجلس سے دُور وہ لوگ ہوں گے جو واہیات بکنے والے ، لوگوں کا مذاق اڑانے والے اور متفیہق ہیں۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان نے عرض کیا کہ : متفیہق کون ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اِرشاد فرمایا : اس سے مراد ہر تکبر کرنے والا شخص ہے۔ ( ترمذی ، 3 / 410 ، حدیث : 2025 )

تکبر کے اسباب اور ان کا علاج

Leave a Reply