مرحومین کے ساتھ بھلائی

مرحومین کے ساتھ بھلائی مگر کیسے؟

دینِ اسلام کی روشن تعلیمات میں جس طرح زندگی میں دوسروں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے ، دوسروں کا بھلا سوچنے، کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس ملتاہے بالکل اسی طرح دنیا سے چلے جانے والے مرحوم مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کا بھی درس ملتا ہے ۔ یہ اسلام کی روشن تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنے والدین، بہن بھائیوں ، عزیز و اقارب اور دیگر مسلمانوں کے لئے ان کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد دُعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کے ذریعے وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔

بغیر مال خرچ کئے ایصالِ ثواب کے چند طریقے درج ذیل ہیں
زندہ اور مُردہ سب کے لئے بخشش کی دعا کرنا
نماز پڑھنا
روزہ رکھنا
اعتکاف کرنا
قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنا
اللہ کا ذکر کرنا
دُرود شریف پڑھنا
درس دینا اور سننا
بیان کرنا
نیکی کی دعوت دینا
نماز کے لئے اُٹھانا
دینی کتاب کا مطالعہ کرنا
دینی کاموں کے لئے انفرادی کوشش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے.

مال خرچ کرنے کے ذریعے ایصالِ ثواب کے چند طریقے درج ذیل ہیں.

ایصالِ ثواب کی نیت سے صدقہ اور خیرات کرنا
حج بیت اللہ کرنا
کسی عالِم یا طالبِ علم کو کتابیں دِلا دینا
کُتب و رَسائل خرید کر تقسیم کر دینا
کسی بیمار اور مستحق کا علاج کروا دینا
کسی غریب کو راشن یا کپڑے یا دیگر اشیاء دلا دینا
کسی کی جائز ضروریات پوری کرنا
پانی کا نل یا موٹر وغیرہ لگوا دینا
مسجد ، مدرسہ یا جامعہ وغیرہ بنوانا یا ان کی تعمیرات میں حصہ لینا
مسلمانوں کو کھانا کھلا دینا

تکبر کی ممانعت اور اسلامی تعلیمات

Leave a Reply