تقویٰ و پرہیزگاری

تقویٰ و پرہیزگاری کیسے حاصل ہو؟

تقویٰ و پرہیزگاری ایسی دولت ہیں جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب پا لیتا ہے۔ انسان حرام کاموں سے گُریز کرتا ہے اور جائز کاموں کی طرف لگ جاتا ہے. تقوی اور پرہیزگاری جیسی عظیم دولت کو کیسے حاصل کیا جائے؟

عدل و انصاف سے: اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: انصاف کرو کہ وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔ (پ6 ،المائدۃ :8 )

پیارےآقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ واصحابہ و بارک وسلم کی بارگاہ کا ادب کرنے سے : بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس. وہ ہیں جن کا دل اللہ (رب العزت) نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ (کھول دیا ، کشادہ کردیا ) لیا ہے۔ (26،الحجرات:3)

نیک اور سچوں کی صحبت سے : اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم فرمایا اور پھر طریقہ بتایا کہ سچوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ ۔ (پ11، التوبۃ:119)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ و بارک وسلَّم کی کامل اتباع سے:اللہ رب العالمین فرماتا ہے کہ :
وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے (لوگ) ہیں۔ (پ24، الزمر:33)

روزے رکھنے سے:اللہ رب العزت نے قراٰن کریم میں روزے کی فرضیت کے احکام صادر فرما کر اس کا اصل مقصود تقویٰ قرار دیا ہے کیوں کہ روزے اور تقوی کا چولی دامن کا ساتھ ہے،اور روزہ متقین کی صفت ہے۔ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تم کو پرہیزگاری ملے ۔ ( پ2،البقرۃ:183)

رضائے الہی کی خاطر عبادت کرنے سے : قرآن الکریم میں ارشاد ہوتاہے، اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو، جس نے تم کو اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔(پ1،البقرۃ:21)

تقویٰ کی دعا مانگنےسے: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ واصحابہ و بارک وسلَّم دعا فرماتے تھے مفہوم ہے کہ :اے اللہ! میں تجھ سےتیری پناہ میں آتا ہوں،عاجز ہو جانے سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل سے، سخت بڑھاپے سے اور عذابِ قبر سے ۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ۔(صحیح مسلم،ج 2 ،ص 315،حدیث:6906

Leave a Reply