مدینہ منورہ

مدینہ منورہ کا ایک نام حسنہ ہے

ایک مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو “ حسنہ “ فرمایا ہے ، چنانچہ پارہ نمبر 14 ، سورۂ نحل کی آیت نمبر 41 میں اِرشاد باری ہوتا ہے کہ :
اور جنہوں نے اللہ ) تعالیٰ) کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے ، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا تو ہم ضرور ان کو دُنیا میں اچھی جگہ دیں گے۔

یہ آیتِ کریمہ ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں نازِل ہوئی یعنی وہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہوں نے ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا تھا ، کفارِ مکہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے ، ان کو اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرنے دیا کرتے تھے ، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے ان مکی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدینک منورہ کی طرف ہجرت کی ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وَعْدَہ فرمایا کہ

تو ہم ضرور انہیں دُنیا میں اچھی جگہ (حسنہ ) دیں گے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں دُنیا میں رہنے کے لئے “ حَسَنَہ (یعنی اچھی جگہ) “ عطا فرمائی جائے گی اور پھر یہ وعدہ پُورا کس طرح سے ہوا…؟ سب جانتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدینہ پاک میں رہنا نصیب فرمایا ، معلوم ہوا مدینہ منورہ “ حسنہ یعنی خوب صورت ، عمدہ ترین اور بہترین “ ہے۔

بیشک مدینہ منورہ کی زمین مومنہ ہے

Leave a Reply