مزری غر کا سفر ، حصہ اول : سفر نامہ از ظاہر محمود

سَنگر میں رات جتنی ڈراؤنی تھی، اُتنی ہی سہانی بھی تھی- یقین مانیے زمین کی گردش کا سُنا ضرور تھا مگر دیکھا اُس رات- ایک ستارہ پہاڑوں کی اوٹ سے ابھرا- میں جانم سے ہم کلام تھا- اس کی سریلی آواز میں عجب نشہ ہے- وہ بولتی ہے تو سانسوں میں رِدھم آتا ہے- اور کبھی قہقہہ لگا دے یا مسکرانے لگے تو دل کرتا ہے کہ جان اسی پہ وار دوں- دورانِ کال میں نے محسوس کیا کہ وہ ابھرتا ہوا ستارہ حرکت کر رہا ہے اور مسلسل چوٹی سے گھاٹی کی طرف آ رہا ہے- مارے خوف کے نیند تو پہلے ہی گھائل ہو چکی تھی، عبدالبصیر کو ٹٹولا، وہ بھی کبوتر کی طرح آنکھیں موند کر رات کے ڈراؤنے پن سے بے خبر ہونے کا ناٹک کر رہا تھا، اُٹھ کر بیٹھ گیا، اسی تارے کو تَکنے لگا- کافی دیر کے بعد ہم دونوں نے محسوس کیا کہ صرف وہی نہیں بلکہ باقی سب ستارے بھی آہستہ آہستہ اپنی جگہ بدل رہے تھے- اب یہ تو ممکن نہیں کہ ستارے حرکت کرتے ہمیں دکھائی دیں- وہ تو اب جس جگہ پر نظر آتے ہیں وہاں ایک ارب سال پہلے موجود تھے- ستاروں کی یہ حرکت ریلیٹو موشن کہلاتی ہے- خیر ہم دونوں نے نظریں گاڑھ لیں اور اس عجوبے کا مشاہدہ کرنے لگے- کافی دیر تک یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل زمین ہے جو محوِ حرکت ہے اور خلا میں سورج کے آلے دوالے رقص کناں ہے- بھیا کچھ نہ پوچھو وہ رات کیسے کاٹی- کمبل میں منہ دبا کر ایسے سوئے کہ پَو پُھٹتے ہی آنکھ کھلی اور جان میں جان آئی- کیا دیکھتا ہوں چارپائی کے پہلو میں دو عدد لوٹے براجمان ہیں- مطلب سمجھ گیا کہ میاں جاؤ واش روم ہو آؤ- واپس آیا تو ایک اسی سالہ بزرگ چائے اور کوئی دو درجن بسکٹس لیے آ پہنچے- انہیں اردو نہ آئے اور ہمیں پشتو، سو بیٹھے انہیں تکتے رہے- کوئی ڈیڑھ اک درجن بسکٹ تو میں نے ہڑپ کیے- عبدالبصیر بیچارا شریف آدمی، مروت میں مارا گیا کیونکہ آدھ اک گھنٹے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہی ناشتہ تھا- اب مزری غر کو سَر کرنا تھا جو کہ ہموار سطح سے 10200 فٹ بلندی پر ہے اور عبدالبصیر کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے جبکہ میری ہنسی قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا- وہ میری اس نصیحت کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے گیا تھا کہ دورانِ سفر کم کھاؤ-
بہرحال قصہ تو ابھی شروع ہونا ہے- ڈاکٹر میر حسن جس کے پاس ہم نے بلوچستان میں پہلی رات بسر کی، ہمارے بسکٹس کھاتے ہی رفو چکر ہو گیا- ہم دم بخود رہ گئے کہ میاں ہمیں چوٹی پہ کون لے جائے گا- دیگر میزبانوں نے بستر سمیٹے اور ہمیں الامان کہہ کر رخصت کر دیا- سامان اٹھائے اڈے پر پہنچے- سامنے لیویز کا ایک تھانہ نظر آیا تو امیدیں جاگیں کہ اب تو کوئی اردو بولنے والا مل ہی جائے گا- بھاگا بھاگا اندر گیا- دو بچونگڑے ایک ہی بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے- دیدہءِ حیراں مجھے تَکے جائیں- کچھ پکارا، کچھ بلایا، مگر انہیں خاک سمجھ آیا، غصے میں آ کر پھر جو میں نے پنجابی میں کہا وہ کچھ ایسا تھا کہ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
وہیں ایک مقامی شخص سے معلوم ہوا کہ لیویز کے اس تھانے میں چالیس ملازم ہیں، ہر ایک چالیس چالیس ہزار کا ملازم ہے- آپس میں مُک مُکا یہ کیا ہے کہ بیس پندرہ دن آئیں گے، بیس اگلے پندرہ دن- خیر جو بھی ہے ہمارا کیا لینا دینا- اللہ اللہ کر کے ایک شخص ملا جس کو اسی قدر اردو آتی تھی جس قدر ہمیں پشتو- بس خوبی یہ تھی کہ وہ سرائیکی بھی سمجھ بول سکتا تھا- اس کا یہی مطلب تھا کہ اب اگلے سفر میں عبدالبصیر اور ہمارا گائیڈ ہی محوِ گفتگو رہیں گے اور ہمارا منہ سوائے منمنانے کے کچھ نہ کرے گا- حیرت کے در وا ہوتے گئے- وہ صاحب ہمیں لیے آبادی سے کہیں دور پہاڑوں کی اوٹ میں لے گئے- ایک مقام ایسا آیا کہ کوئی ذی روح نظر نہ آیا- بس چاروں طرف پہاڑ تھے اور ہم تھے دوستو-
گھر پہنچتے ہی اس نے پینترا بدلا اور کوئی اور شخص ہمارے ساتھ روانہ کر دیا- اب اس سے آگے کی کتھا بڑی دردناک، خوفناک، اذیت ناک اور ہیبت ناک ہے- سامنے بلند و بانگ پتھریلی چٹان تھی جسے یہ صاحب لوگ مزری غر گردانتے تھے- چٹان یوں تھی کہ پہلے پہل تو دس بارہ چھوٹی موٹی پہاڑیاں پار کر کے اصل پہاڑ تک پہنچنا تھا- بیچوں بیچ چلغوزے کا عظیم الشان جنگل تھا- جب اصل چوٹی کی جڑ تک پہنچے تو کیا دیکھتا ہوں کہ شروع میں تو ایک فلک بوس ڈھلوان نما پہاڑی ہے مگر یکدم فلک شگاف عمودی چٹان میں بدل جاتی ہے- میرے حوصلے کبھی پست ہوں، کبھی جاں ہتھیلی پہ آنے لگے- ابتداً گلاب خان نے بتایا کہ ہم نے بس وہاں عمودی چٹان کی جڑ تک جانا ہے- گلاب خان وہی شخص ہے جسے سَنگر سے ملنے والے گائیڈ نے ہمارے ساتھ روانہ کیا- میں کوئی دو سال بعد ہائیکنگ کرنے پر آمادہ ہوا تھا اور یہ آمادگی عبدالبصیر کے مزری غر کے بارے میں دکھائے گئے سہانے خوابوں کی بدولت تھی- ان دو سالوں میں، میں نے خوب سگریٹیں پھونکیں- اوپری، نچلے، درمیانی درجے کا کوئی برانڈ نہیں چھوڑا- سب پئیے اور خوب پئیے- بس میاں وہ سارے سگریٹ قطار اندر قطار سامنے کھڑے ہونے لگے- اوپر کو چڑھوں تو یوں لگے کہ دل پھٹا یا پھیپھڑے- اس پہ مستزاد یہ کہ ایک بابا جی ملے تو کہنے لگے کہ بیٹا یہ کالا پہاڑ ہے، اس کا پتھر کاٹ دار ہے، چیر پھاڑ کے رکھ دے گا، ابھی ابھی ایک شخص ادھر کو گیا کسی مزدور سے قرض پکڑنے اور اُدھر ہی ڈھیر ہو گیا- بس بھیا پھر جوں جوں اوپر چڑھتا جاؤں، میرا سانس اکھڑتا جائے- جھٹ بیٹھوں تو دل بہلاؤں، جھٹ بیٹھوں تو پھیپھڑے- چڑھتے چڑھتے بالآخر ہم چلغوزے کے جنگل میں پہنچ گئے- ایک انجان مگر مانوس سی خوشبو نے اپنے سحر میں جکڑ لیا- گلاب خان نے بتایا کہ یہ چلغوزے کے پتوں کی خوشبو ہے- رستہ ایسا پُر خطر اور ہیجان آمیز تھا کہ نیچے دیکھو یا اوپر کلیجہ منہ کو آتا تھا- مجھے بلندی سے ڈر لگتا ہے، سو گلاب خان کے پیروں پہ ٹکٹکی باندھے چلتا رہا- ہر دس بیس منٹ بعد سستانے کو بیٹھ جاتا، گلاب خان چھپ چھپ کر مجھے دیکھتا کہ یہ تو برگر بچہ ہے دیکھو کہاں تک چلتا ہے- میں بھی اگرچہ بہت تکلیف میں تھا مگر آدھا پہاڑ چڑھ چکا تھا اور ناکام لوٹنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا- گو کہ مجھے کسی بھی امکان یا راستے کا نہیں بتایا گیا تھا مگر میں نے ٹھان لی کہ اب یہ چوٹی تو سَر کر کے ہی جاؤں گا چاہے رات وہیں چوٹی پہ بِتانی پڑے-

ملتان سے ایم اے لاکھانی صاحب مسلسل ہمارے ساتھ رابطے میں تھے- میں کوسُوں عبدالبصیر کو کہ بھئی آج بُرا پھنسایا گیا ہوں، وہ کہیں ظاہر بھائی آپ تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں- تورغر کی یہ چوٹی آج تک وسیب سے باہر کے کسی سیاح نے سَر نہیں کی- میں بپھر گیا- کہا بھیا پہلے یہ بتا دو کہ جس چوٹی پہ ہم چڑھ رہے ہیں یہ تور غر ہے، مزری غر ہے، شیرانی غر ہے یا کالا پہاڑ- اس پہ دونوں طرف سے ایک قہقہ بلند ہوا جو کوہِ سلیمان کی پہاڑیوں میں تادیر گونجتا رہا- لاکھانی صاحب نے بتایا کہ اس پہاڑ کو عرفِ عام میں کالا پہاڑ کہتے ہیں چونکہ یہ بہت پتھریلا، نوکیلا اور خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ جان لیوا بھی ہے- تور غر اس چوٹی کا اصل نام ہے- اس چوٹی کا پانی اگر مشرق کی طرف جائے تو مزری بلوچ قبیلے کے لوگوں کو سیراب کرتا ہے لہذا اس طرف کی پہاڑی کو مزری غر کہتے ہیں اور اگر اسی چوٹی کا پانی مغرب میں گِرے اور شیرانی بلوچ قبیلے کی فصلوں کو سیراب کرے تو اس طرف کو شیرانی غر کہتے ہیں- میں نے ٹھیٹھ پنجابی میں منہ بھر کر چوٹی کی ماں بہن، باپ بھائی ایک کیے اور پسینہ پونچھتے پونچھتے خود کو مزید اوپر کی طرف ہانکنے لگا- میری حالتِ زار کو دیکھ کر عبدالبصیر نے جنگلی پیاز کے استعمال کا ٹوٹکا تجویز کیا تو گلاب خان نے بڑی مستعدی سے چلغوزے کے ایک درخت سے لپٹ کر ایک پتھر کے پاس سے جنگلی پیاز اکھاڑے اور ہمیں لا دئیے- وہ کھانے سے واقعتاً میری طبیعت بحال ہوئی-
یہ سفر میری زندگی میں اب تک کا سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک سفر تھا- اس کی تین بنیادی وجوہات تھیں- ایک تو میں تمباکو نوشی کا عادی بن چکا تھا دوسرا مجھے اس سفر کی اذیتیوں اور مشکلات کا ادراک نہیں تھا اور تیسرا میں کافی عرصے بعد کوئی پہاڑی چڑھنے والا تھا- جب ہم عمودی چٹان کی جڑ تک پہنچ گئے تو ذرا ایک طرف کو ٹیک لگا کر نیچے دیکھا- مجھے عزرائیل کے پَر دکھائی دئیے- نہ صرف دکھائی دئیے بلکہ ان کے پھڑپھڑانے کی آواز بھی سنائی دی- ژوب، شیرانی، موسی خیل کہ سب اونچی نیچی پہاڑیاں ریت کے ٹیلے دکھائی دئیے- ہمیں اس سفر میں کوئی چار گھنٹے بِیت چکے تھے- واپسی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جبکہ جس مقام پر ہم کھڑے تھے وہاں قیام و طعام کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا- ہمیں ہر حال میں چوٹی پر پہنچنا تھا اور چوٹی پر پہنچنے کے لیے اس عمودی چٹان کے نوکیلے کاٹ دار پتھروں پر بھی چڑھ کر جانا تھا- پتھر ایسے تھے کہ یا آر یا پار- ذرا پاؤں پھسلا نہیں تو بندہ خاکستر ہوا نہیں- چلغوزے کے نوک دار درخت چیرنے پھاڑنے کے لیے منہ پھاڑے دیکھ رہے تھے- گلاب خان تو مقامی تھا، اسے تو ایسی عمودی چڑھائی کی عادت تھی- عبدالبصیر اس لیے چپ تھا کہ وہ تو میرا بھی حوصلہ تھا- اگر وہی چیخ و پکار کرتا تو میں تو مر گیا ہوتا- خیر وہ کسی طرح چڑھتا رہا اور یہاں میری یہ حالت تھی کہ گلاب خان کبھی بازو کی سیڑھی بناتا تو کبھی اپنی ٹانگوں پہ پاؤں رکھوا کر اوپر کھینچتا، دھکیلتا- بعض دفعہ تو ایسے پتھر آئے کہ گھسیٹ گھسیٹ کر اوپر چڑھایا- میرے ہاتھ اور پاؤں شَل ہو چکے تھے- ہتھیلیوں پہ پتھروں کی رگڑ سے لہو بہنے لگا تھا- ایک مقام پر پتھر کے ساتھ لٹکا تھا کہ وہیں سنجیدہ ہو گیا- چیخ چیخ کر کہا کہ گلاب خانا لے کر کہاں جا رہے ہو؟ کیا کوئی پوشیدہ مقصد ہے یا ہمیں اغوا کر لیا ہے- چونکہ وہ سارا قبائلی علاقہ ہے- ہر طرف بلوچ رہتے ہیں- واپسی کا رستہ ہم نہیں جانتے تھے، سچ پوچھیے تو وہ کوئی رستہ تھا ہی نہیں، کچھ سہارے، کچھ مخدوش پگڈنڈیاں تھیں جن کے آسرے ہم اوپر آئے- چار پانچ منٹ آسرا کیا اور پھر وہ جان جوکھوں کا سفر دوبارہ شروع کیا- کچھ نہ پوچھیے کیسے گِرتے، مَرتے، لڑکھڑاتے بالآخر ہم چوٹی پر پہنچ ہی گئے- سہ پہر کے دو بج چکے تھے-

اس سفرنامے کا اگلا حصہ پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں

Leave a Reply