بازار حسن کی سیر : علی رضا تھہیم

سرگودھا شہر میں اپنے دوست کے ساتھ جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی خواتین سے ملاقات کی .وہ کچھ ایسے کہ سیر سپاٹوں کے دوران جب میں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ کسی اچھے مقامات پر گھومنا ہے تو انکا شرارتی انداز اور شیطانی ہنسی نے مجھے گمان میں ڈال دیا اور وہ کہنے لگے کہ مزے کرنےہیں تو چلو.

سرگودھا آکر مجھے بازار حسن کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں پر جسم فروشی کا دھندہ عام ہے ، جبکہ دنیا بھر میں خواتین اپنے حقوق کیلئے اور ایک عجیب نعرے کے ساتھ سڑکوں پر نکلی ہوئی ہیں . سارے ٹیلی ویژن پر مسلسل خواتین کے عالمی دن کے بارے میں بتایا جارہا ہے مگر شاہینوں کے شہر میں ہو کیا رہا ہے؟ یہاں تو آپ کو آپکی چوائس اور ہر عمر کی لڑکیاں بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں!
میں نے دوست سے پوچھا کہ کیا یہاں پر پولیس کا چھاپہ نہیں پڑتا؟
اس طرح اتنا بڑا شہر اور ایسے کام کیسے؟ میرا تجسس بڑھتا گیا تو تحقیق بڑھتی گئی
کچھ کہتے پولیس والوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے کچھ کہتے ان کے پاس لائسنس ہے .
کچھ کہتے یہ لوگ متعہ کا لائسنس لئے بیٹھے ہیں دور کے لوگوں کا آپس میں متعہ کرواتے ہیں ایک خاص قواعد قوانین کے ساتھ!

لیکن اس کے علاوہ عجیب بات یہ بھی تھی کہ وہاں ہر بچہ باآسانی جاسکتا تھا.. خیر میں بھی جانا چاہتا تھا اور دیکھنا اور جاننا چاہتا تھا کیا واقعی سرگودھا میں یہ کام ہوتے ہیں اور کتنی حد تک حد تک ہوتے ہیں؟
اور آخر ایک طویل وقفے کے بعد وہاں جانے کا اتفاق ہوہی گیا
رات کے دس بجے میں اور میرا دوست چونگی کی طرف روانہ ہوئے جہاں ہم 10 بجکر 30 منٹ پر پہنچے
وہاں پہنچتے ہی میں نے اپنی بائیک سائیڈ پر کھڑا کی اور اس گلی کی طرف نکلے جہاں سے بازار شروع ہوتا تھا.
اس گلی کے باہر جنگلے کا دروازہ تھا جس کے ساتھ ہی ایک بزرگ نما شخص کھڑا تھا جو داخلے کی مقرر فیس وصول کررہا تھا ، یعنی کے اندر جانے کا ٹکٹ ہم نے بھی ٹکٹ کیلئے پیسے دیئے اور دروازے کے اندر داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک تقریبا 23 سالہ جوان خوبرو لڑکی مکمل طور پر بن سنور کر سامنے کھڑی تھی اور دیکھتے ہی بولی : ”اوئے بلے ادھر آ، بلے بات تو سن” .. میرے دماغ کو ایک عجیب سا دھچکا لگا جو میں سنبھال نہیں پایا..
کہ دوسری نے آوازیں دینا شروع کردیں. ہر 5 قدموں پر ایک گھر تھا اور ہر گھر کے سامنے ہر عمر کی عورت دلہن کی طرح بن سنور کر کھڑی آوازیں دے رہی تھی
اگر کسی کی طرف 2 سیکنڈ کے لئے دیکھ لیا جائے تو وہ باہر نکل کر ہاتھ پکڑنے پہ بھی آجاتی تھی .

شاید وہ بندہ دیکھ کر پہچان لیتی تھی کہ نیا ہے یا پرانا اور شرما رہا ہے یا گھبرا رہا ہے

اس لئے وہ خود ہی بندے کی مشکل کو سمجھتے ہوئے متوجہ کر لیتی تھی ہر گھر کے باہر دو عورتیں چوکیدار بن کھڑی تھی تاکہ اگر آپکی ڈیل ہوجائے اور آپ کے پاس نوٹ بڑا ہو تو وہ چینج کروا کر لائے اور ساتھ کچھ اپنا حصہ بھی مانگے ہر گھر کے سامنے ایک چھوٹی سی دوکان تھی جس میں پان چپس بوتل سگریٹ وغیرہ کی سہولیات موجود تھی کچھ جگہوں پر لڑکیاں ڈیک پر گانے لگا کر ناچ رہی تھی اور تماشائی خوب انجوائے کررہے تھے عمر کے ساتھ ساتھ ہر عورت کے ریٹ بھی مختلف تھے . آپ کو سن کر دھچکا شاید لگے نہ لگے مجھے تو ضرور لگا تھا کہ عورت کا ریٹ 300 سے شروع ہوتا جبکہ 500 روپے تک من چاہی لڑکی مل سکتی تھی. میں سوچتا رہا اور میرا تجسس مزید بڑھتا گیا کہ ان کے جسم کے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ ریٹ کتنا سستا ہے نا!

عورت کا جسم!!! کتنا ترقی کر گیا ہےنا ہمارا معاشرہ؟ کتنا مہنگا ہوگیا ہے شادی کرنا اور کتنا آسان ہو گیا ہے زنا!!! وہ بھی ایک پرسکون جگہ اور بنا کسی خوف کے ساتھ میں چلتے ہوئے سوچ رہا تھا. اس گلی کے ساتھ جو شریف گھروں کی لڑکیاں ہونگی وہ بھی تو اس چونگی کے بارے میں جانتی ہونگی وہ کیا سوچتی ہونگی ان کی تربیت میں کیا اثر پڑتا ہوگا، ہماری نوجوان نسل پر کتنے منفی اثرات پڑرہے ہیں جبکہ باہر عورتیں عالمی دن منارہی ہیں خیر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے آگے چلتے ہیں
مجھے ایک عمر رسیدہ عورت نے آواز دی اور اپنی طرف بلایا . اس کے پاس گیا تو کہتی ہے آجاو اندر! میں نے کہا کہ نہیں میں ایسا نہیں ہوں تو ہنس کر کہتی : ایسے نہیں تو آئے کیوں ہو جو ایسے نہیں ہوتے وہ آتے بھی نہیں..

بات مجھے بھی اچھی لگی، بات تو ٹھیک ہے. شریف لوگوں کا یہاں کیا کام، جو یہاں آئے ہیں کسی مقصد کے لئے ہی آئے ہیں خیر میں نے سوچا چلیں گندہ تو اب ہر ایک کی نظر میں ہوہی گیا ہوں جو بھی دیکھے گی مجھے پارسا کوئی بھی نہیں سمجھے گی. چلیں گپ شب لگاتے ہیں . انکے بارے میں پوچھتے ہیں. کیوں کیسے کونسی مجبوری یہاں پر لائی. میں پھر ہر ایک کے پاس گیا. تقریبا جن کے ساتھ ملاقات کی سب کا ایک ہی المیہ تھا غربت پیسوں کی ضرورت بیروزگاری کچھ تو ایسی تھی جنہیں خریدا گیا تھا اور دی ہوئی رقم پوری کرنے کیلئے چھوڑا گیا تھا.
کچھ نے تو بات کرنے سے صاف انکار کردیا اور کہا : اندر آنا ہے تو ٹھیک نہیں تو ہمارے پاس ٹائم نہیں
مزید دیکھا تو اچھی فیملی کے لوگ، شادی شدہ مرد ، اعلی تعلیم سے وابستہ لوگ، کاروباری لوگ، مڈل کلاس بھی، 15 سال تک کے بچے بھی اس گلی میں چہل قدمی کررہے تھے ؛ بنا کسی خوف کے. میں یقین سے کہتا ہوں جس مرد نے برائی کی طرف جانا ہے ان کی بیویوں کو ہوا بھی نہیں لگتی ہوگی . لاکھ جاسوسی کرلے، لاکھ اپنے دماغ کے فتنے کھول لے مگر نہیں ، ناکام ہونگی.. جو نیک نظر آتے ہیں پردے کے پیچھے کیا ہیں صرف اللہ جانتا ہے الزام تراشی نہیں یقین سے کہتا ہوں بہت کچھ دیکھا ہے
حدیثیں سنا کر جنت دوزق کے فیصلے سنا دینا آسان ہے مگر جو حل عمل بتا دیا اس پر عمل نہ کرنا ، ایسے ہی باتیں کرتے رہے تو ہمارا معاشرہ زانی ہوجائے گا .نکاح بوجھ بن جائے گا . ماڈرن زمانے میں زنا عام زندگی میں شامل ہوجائے گا . وہاں کی آزادی دیکھ کر میں عجیب سی کیفیت میں جارہا تھا . میرا دماغ مزید کچھ پوچھنا اور میرا قلم مزید کچھ لکھنا نہیں چارہا تھا. میں خود کو ایک پنجرے میں جکڑا محسوس کررہا تھا اور اپنے اندر ایک آگ کی بھٹی کو سلگتا ہوا محسوس کر رہا تھا . میں نے تیز قدموں کے ساتھ چلنا شروع کردیا اور جلد سے جلد نکلنا چاہتا تھا . گلی کی آخری نکڑ پر پہنچ چکا تھا . سامنے فقہ جعفری کی مسجد تھی جسے دونوں ہاتھوں سے سلام کیا اور دروازے سے باہر آگیا یقین مانیئے جو دیکھا وہ لکھا، زمانہ بدل گیا .

Leave a Reply