“بلوچستان کی چیخ” تحریرآصف جانِف

میری آواز کو دبوچ کر نچوڑ کر اس کا رس نکالا گیا اور پھر اسی رس کو خاموشی کے گلاس میں ڈال کر وقت کو پلایا گیا۔۔۔۔
میری خواہشات کو انکار کا پھندہ ڈال کر نظر اندازی کی پاتال میں لٹکا دیا گیا اور میری چمکتی آنکھوں میں بہانوں کی دُھول جھونک کر مجھے ہر چمک دمک سے بےخبر رکھا گیا تاکہ میں کوئی شئے دیکھ کر مانگ نہ لوں۔۔۔۔۔۔
میری ناراضگیوں اور اداسیوں کو دیکھ کر میرے حق میں گُونگوں کے لب بول پڑے، پرندے ہوا میں میری اداسیوں کا ماتم کرتے اور سوگ مناتے رہے اور پھول خوشبو دینا چھوڑ گئے مگر افسوس کہ جن کے سبب یہ ناراضگیاں اور اداسیاں تھیں وہ ان ناراضگیوں کو دُکھوں کا پانی دے دے کر میری اداسیاں مزید بڑھاتے رہے۔۔۔۔۔۔
پر میں نے ان سب کے باوجود اب تک ہار تسلیم نہیں کی۔

جتنی آواز ہے دبی میری
اتنی چیخی ہے خامشی میری

میری آواز دب چکی ہے مگر میری خاموشیاں زور زور سے چیخ رہی ہیں اور میری آنکھوں میں پڑی دھول میری دید کی طاقت کی تاب نہ لاتے ہوئے رفتہ رفتہ ہٹنے لگی ہے۔۔۔۔۔۔
میری منزل میری منتظر ہے کیونکہ میں نے اب تک ہار تسلیم نہیں کی ہے۔

Leave a Reply