موت کی سزا قبول

موت کی سزا قبول مگر زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا، یاسین ملک

(ہم دوست نیوز): اطلاعات کے مطابق کافی عرصے سے بھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک نے کہا ہے کہ
اگر بھارتی عدالت نے موت کی سزا سنائی تو قبول کروں گا مگر زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔

تفصیلات کے مطابق حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کیخلاف دہشت گردی کیلئے فنڈنگ کے جھوٹے مقدمے میں بھارتی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔19 مئی کو بھارتی عدالت نے یاسین ملک پر دہشت گردی کی فنڈنگ کے جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کی تھی۔جس کے بعد سزا سنانے کیلئے 25 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔

بھارت تمام حریت رہنماؤں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے، مشعال ملک

میڈیا رپورٹس کے مطابق حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کیخلاف مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ فیصلہ سنانے کیلئے یاسین ملک کو سخت سکیورٹی کے حصار میں نئی دلی کی عدالت میں پہنچایا گیا تھا۔

کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا گزشتہ کئی دہائیوں سے میں گاندھی کے اصولوں پر عمل پیرا رہا ہوں۔

یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی انٹیلی جنس کسی دہشت گرد سرگرمی میں میرا ملوث ہونا ثابت کر دے تو میں ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دوں گا۔

حریت پسند کشمیری رہنما نے مزید کہا کہ کسی پُرتشدد سرگرمی میں میرا ملوث ہونا ثابت ہو جاتا ہے تو موت کی سزا قبول کر لوں گا مگر کسی سزاسے متعلق بھیک نہیں مانگوں گا۔

موت کی سزا قبول مگر زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا، یاسین ملک” ایک تبصرہ

Leave a Reply