بورس جانسن کی حکومت

بورس جانسن کی حکومت ایک مرتبہ پھر بحران کی زد میں

لندن:(ہم دوست نیوز ) اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت ایک بار پھر سے شدید بحران کی زد میں آگئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت ایک بار پھر ڈانواں ڈول ہ لو رہی ہے ۔ بورس جانسن کے 2 اہم کابینہ اراکین کے اچانک استعفوں کے باعث حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیر اعظم بورس جانسن پر مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی ہے ۔

بھارت میں مسلم روحانی پیشوا کو قتل کردیا گیا

گزشتہ روز برطانیہ میں برطانیہ کے وزیر خزانہ رشی سوناک اور وزیر صحت ساجد جاوید نے یکے بعد دیگرے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا تھا ۔ دونوں وزراء نے وزیر اعظم بورس جانسن کی انتظامیہ کو چلانے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا تھا ۔ کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکن نے بھی برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کا ایک خط جمع کروا دیا ہے ۔ یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم کو حال ہی میں پارٹی کی سربراہی کے حوالے سے بھی عدم اعتماد کی ایک تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

برطانوی وزیراعظم کا تازہ ترین اسکینڈل اس وقت شروع ہوا ہے ۔ جب انہوں نے ایک ایسے پارٹی رکن کی تقرری پر معذرت چاہی تھی جس پر کسی کو جنسی ہراساں کرنے کے الزامات تھے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن ان الزامات سے واقف تھے ۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی انہوں نے کرس پنچر کو اہم عہدے پر تعینات کر دیا تھا۔

Leave a Reply